ممبئی، 23/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی )سپریم کورٹ نے گجرات کے گودھرا سانحہ کے بعد ہونے والے فسادات کے مقدمے میں 6 ملزمان کو بری کر دیا۔ جمعہ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ کسی فرد کا محض موقع پر موجود ہونا یا وہاں سے گرفتار کیا جانا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ غیر قانونی ہجوم کا حصہ تھا۔ عدالت نے شواہد کی کمی کے باعث ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہا کہ جرم ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔
جسٹس پی۔ ایس۔ نرسمہا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے 2016 کے اس فیصلے کو خارج کر دیا جس میں گودھرا سانحہ کے بعد 2002 میں ہوئے فساد کے معاملے میں چھ ملزمان کو بَری کرنے کے فیصلے کو پلٹ دیا گیا تھا۔
دھیرو بھائی لال بھائی چوہان اور پانچ دیگر کو اس واقعہ میں ایک سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی جس میں مبینہ طور پر بھیڑ نے ودوڈ گاؤں میں ایک قبرستان اور ایک مسجد کو گھیر لیا تھا۔ سبھی اپیل کنندگان ملزمان کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ نچلی عدالت نے سبھی 19 ملزمان کو بری کر دیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے ان میں سے 6 کو قصوروار ٹھہرایا۔ ایک ملزم کی معاملہ کے زیر التوا رہنے کے دوران موت ہو گئی تھی۔ اپیل کنندگان سمیت 7 لوگوں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ایک نچلی عدالت کے 2003 کے فیصلے کو بحال کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی طرح کی قصوروار کردار کی کمی میں موقع پر ان کی گرفتار 28 فروری 2002 کو وڈود میں ہوئے واقعہ میں ان کے شامل ہونے کے بارے میں فیصلہ کن نہیں ہے۔ خاص کر تب جب ان کے پاس سے نہ تو کوئی خطرناک اسلحہ برآمد ہوا ہے اور نہ ہی کوئی اشتعال انگیز اشیاء۔