بھٹکل، 10 جولائی (ایس او نیوز): بھٹکل تعلقہ میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے عوام میں جس طرح کا خوف و ہراس پیدا ہو ا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے ایک طرف قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی جانب سے بھٹکل میونسپالٹی اور دیگر سرکاری افسران کو یادداشت پیش کرتے ہوئے کتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہیں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) بھٹکل یونٹ نے تحصیلدار کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے کتوں کے حملوں میں زیادہ تر اسکول کے طلبہ زخمی ہونے کو لے کر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری طور پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایس آئی او کی جانب سے تحصیلدار کو پیش کی گئی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران بھٹکل کے رہائشی علاقوں اور مارکیٹوں میں آوارہ کتوں نے پندرہ سے زائد افراد پر حملہ کیا ہے، جن میں اسکولی بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے افراد کو ریبیز ویکسین دی جا رہی ہے، جس سے والدین اور عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اس موقع پر ایس آئی او کے میڈیا سیکریٹری طالش مشائخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کتوں کی آبادی پر کنٹرول کے لیے فوری نس بندی مہم شروع کی جائے، خطرناک اور حملہ آور کتوں کی شناخت کرکے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، کتوں کا حملہ ہونے کی صورت میں شکایت درج کرنے کے لیے ہیلپ لائن سروس یا مقامی رابطہ مرکز قائم کیا جائے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے پنچایت و بلدیہ کے اشتراک سے نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زخمی افراد کو ریبیز ویکسین اور فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی جائے۔
طالش مشائخ نے کہا کہ" ایس آئی او" انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اس مسئلے کو انسانی ہمدردی اور قانونی دائرے میں رہ کر حل کیا جا سکے۔
یادداشت پیش کرنے کے موقع پر محمد زیّان بنگالی، محمد غطریف مانوی، سید سابق برماور، عمر عبدالعزیز اور دیگر ارکان موجود تھے۔