ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سونیا گاندھی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، وہ صدر جمہوریہ کا احترام کرتی ہیں: پرینکا گاندھی

سونیا گاندھی کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، وہ صدر جمہوریہ کا احترام کرتی ہیں: پرینکا گاندھی

Sat, 01 Feb 2025 13:05:19    S.O. News Service

 نئی دہلی ، یکم فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر کے بعد سونیا گاندھی کے ایک تبصرے پر بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس پر کانگریس کی جنرل سکریٹری اور کیرالہ کے وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بی جے پی کو جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ میری ماں صدر جمہوریہ کا بہت احترام کرتی ہیں اور ان کے بیان کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی کو سونیا گاندھی کے تبصرے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

دراصل کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیف سونیا گاندھی نے آج پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ کی تقریر کے بعد کہا کہ وہ اپنے خطاب کے آخر تک پہنچتے پہنچتے تھک گئی تھیں اور بہت مشکل سے بول پا رہی تھیں۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا سمیت کئی بی جے پی لیڈران نے اس بیان پر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی انھوں نے سونیا گاندھی کے تبصرہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ صدر جمہوریہ اور ہندوستان کے قبائلی طبقہ سے بلاشرط معافی مانگیں۔

بی جے پی لیڈروں کی طرف سے اس معاملے میں تنازعہ کھڑا کیے جانے پر پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’میری ماں 78 سال کی ایک بزرگ خاتون ہیں۔ انھوں نے صرف یہ کہا کہ صدر اتنی طویل تقریر پڑھ کر تھک گئی ہوں گی۔ وہ خواتین کا بہت احترام کرتی ہیں۔ یہ بہت افسوسناک ہے کہ میڈیا نے اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔‘‘ بی جے پی کی طرف سے معافی کا مطالبہ کیے جانے سے متعلق جب پرینکا سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’انھوں نے (بی جے پی نے) ملک کو ڈبایا ہے، پہلے اس کے لیے معافی مانگیں۔‘‘

لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گگوئی نے اس معاملے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’عزت مآب صدر جمہوریہ دروپدی مرمو جی کی صحت کے تئیں سونیا گاندھی کی ہمدردی بی جے پی کے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے ہر شخص کے دل میں صدر جمہوریہ کے تئیں احترام اور ہمدردی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’کیا بی جے پی صدر مرمو کے تئیں اس بے عزتی کا جواب دے گی جب انھیں پارلیمنٹ ہاؤس یا ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا؟ میں انھیں اس سوال کا جواب دینے کا چیلنج پیش کرتا ہوں۔‘‘


Share: