نئی دہلی، 8 فروری (ایس او نیوز): پیر سے پارلیمنٹ میں شروع ہونے والی بجٹ بحث کے دوران شدید ہنگامے کے آثار نظر آ رہے ہیں، اور سمجھا جا رہا ہے کہ اپوزیشن انڈو–امریکہ ڈیل پر مرکزی حکومت کو گھیرنے اور اسے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ایسے میں ایوان کی کارروائی کے معمول پر چلنے پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اپوزیشن اس کے ساتھ روسی تیل سے متعلق امریکی حکم نامے اور چین پالیسی پر سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروا نے کے تبصروں کو بھی ایوان میں اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو ان معاملات پر بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔
بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ اس جمعہ کو ختم ہوگا اور پارلیمنٹ 9 مارچ کو دوبارہ اجلاس کرے گی، جب محکمہ جاتی قائمہ کمیٹیاں مختلف وزارتوں کے مطالباتِ زر کا جائزہ مکمل کریں گی۔ اجلاس 2 اپریل کو اختتام پذیر ہوگا۔
واضح رہے کہ لوک سبھا میں بجٹ پر بحث گزشتہ جمعرات کو شروع ہونی تھی، لیکن اپوزیشن کے احتجاج کے باعث کارروائی ممکن نہ ہو سکی۔ ایک سینئر اپوزیشن رہنما نے کہا، “پیر کو ہی واضح ہوگا کہ ایوان چل پاتا ہے یا نہیں۔”