سداپور ،26 / اکتوبر (ایس او نیوز) شہر کے کرناٹکا بینک میں ہوئے 3.51 کروڑ روپوں کے گھپلے کے بارے میں بینک کی اندرونی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئی ہے اور اس جرم میں ملوث بینک کے اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق بینک کے برانچ منیجر شمبھو لنگا پرمیشورا بھٹ نے بینک کے کسٹمر سروس اسسٹنٹ منجوناتھ شریدھر بھٹ (34 سال) کے خلاف شکایت درج کروائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ اہلکار نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں مختلف گاہکوں کے کھاتوں سے 3,51,84,349 روپے غیر قانونی طور پر اپنے ذاتی اکاونٹ میں منتقل کروائے ہیں ۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ بینک کا یہ اہلکار چونکہ گاہکوں کی خدمات کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے اس وجہ سے اس نے معمر افراد اور شناسا افراد کو نشانہ بنا کر ان کے بھروسے اور اعتماد کا غلط استعمال کیا اور نقلی دستاویزات تیار کرکے دھوکہ دہی اور عوامی فنڈ کے ناجائز استعمال کرنے سے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ اس فراڈ کا ملزم منجوناتھ بھٹ 2013 سے کینرا بینک میں ملازمت کر رہا ہے ۔ 2023 میں سداپور میں جب کینرا بینک کی نئی شاخ قائم ہوئی تو اسے کسٹمر سروس کے شعبے کی ذمہ داری دی گئی ۔
فراڈ کیسے سامنے آیا : 29 ستمبر 2025 کو ایک گاہک نے اپنے ٹرم ڈپازٹ کی تجدید کے لئے بینک میں درخواست دی ۔ جب بینک کے دوسرے اہلکار نے اس کھاتے کی جانچ کی تو وہاں درج تھا کہ یہ ڈپازٹ کھاتہ 25 ستمبر کو بند کر دیا گیا ہے اور 4,40,561 روپے گاہک کے بچت کھاتے میں جمع کیے گئے ہیں ۔ جب اس معاملے کی تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا ہے کہ ملزم منجوناتھ دیگر بینک افسران کی لاگ اِن کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر گاہک کے بچت کھاتے میں جمع کی گئی مذکور رقم 4,40,561 روپے اپنے ذاتی اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے ہیں ۔
اسی کے ساتھ بینک کی اندرونی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم منجو ناتھ نے مالی سال 2024-25 کے دوران 1,83,21,426 روپے اور مالی سال 2025-26 میں 1,68,62,923 روپے مختلف گاہکوں کے کھاتوں سے غیر مجازی طور پر اپنے بینک کھاتے میں منتقل کیے ہیں ۔
اس معاملے پر بینک کے اسسٹنٹ جنرل منیجر وای راج بھٹ نے بتایا ہے کہ بینک کی طرف سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور اگر اس جرم میں بینک کے دیگر ملازمین شامل رہنے کی بات معلوم ہوئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ۔ جن دو بینک افسران کی لاگ اِن کا استعمال کیا گیا تھا ان کا تبادلہ بینک کی دوسری شاخوں میں کر دیا گیا کیونکہ اپنا لاگ ان کوڈ دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا ایک سنگین غلطی ہے ۔ ان دونوں کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ اس فراڈ کی وجہ سے گاہکوں کو خوف یا تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ گاہکوں کی رقم کو کسی بھی نقصان سے محفوظ رکھنے کے لئے بینک کی طرف سے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ جو رقم فراڈ کے ذریعے نکالی گئی ہے اسے گاہکوں کو لوٹانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے منظوری ملنا چاہیے ۔ اس میں ایک سے دو ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے ۔ جیسے ہی منظوری ملے گی گاہکوں کی خواہش کے مطابق ان کی رقم انہیں لوٹائی جائے گی ۔