ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شیواجی–ٹیپو تبصرہ: مہاراشٹرا کے پونے میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں میں شدید جھڑپ، پتھراؤ سے 9 افراد زخمی

شیواجی–ٹیپو تبصرہ: مہاراشٹرا کے پونے میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں میں شدید جھڑپ، پتھراؤ سے 9 افراد زخمی

Sun, 15 Feb 2026 23:06:03    S O News
شیواجی–ٹیپو تبصرہ: مہاراشٹرا  کے پونے میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں میں شدید جھڑپ، پتھراؤ سے 9 افراد زخمی
 

ممبئی، 15 فروری (ایس او نیوز): کانگریس لیڈر ہرشوردھن سپکل کی جانب سے چھترپتی شیواجی مہاراج کو ٹیپو سلطان کے مساوی قرار دینے سے متعلق بیان کے بعد مہاراشٹرا کے شہر پونے میں سیاسی کشیدگی شدت اختیار کرگئی۔بی جے پی کے کارکنوں نے بیان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس بھون کے باہر مظاہرہ کیا، جس کے دوران دونوں سیاسی پارٹیوں کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور مبینہ طور پر پتھراؤ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ میں مجموعی طور پر 9 افراد زخمی ہوگئے۔

جوائنٹ کمشنر آف پولیس رنجن کمار شرما نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے میں تین کانگریسی کارکن، دو بی جے پی کارکن، دو پولیس اہلکار اور دو صحافی معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس بھون کے قریب ہونے والے احتجاج کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے نعرے بازی کی، بعض افراد دیواروں پر چڑھ گئے اور حالات اس وقت بگڑ گئے جب دونوں جانب سے پتھراؤ شروع ہوگیا۔ پولیس نے واضح کیا کہ دونوں فریقین کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

پونے سٹی کانگریس کے صدر اروند شندے نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی عہدیداروں اور کارکنوں نے اشتعال انگیزی کی۔ انہوں نے میئر منجوشا ناگپورے، بی جے پی سٹی صدر دھیراج گھاٹے، دشینت موہول اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پولیس کو تحریری شکایت دی جا چکی ہے۔

احتجاج کے پیش نظر کانگریس بھون کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، تاہم صورت حال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب کارکنان میں ہاتھا پائی اور پتھراؤ شروع ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق تنازع اس بیان کے بعد کھڑا ہوا جس میں سپکل نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے پیش کردہ نظریۂ "سوراجیہ" کا حوالہ دیتے ہوئے 18ویں صدی کے میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کی برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد کو اسی نوعیت کا نظریہ قرار دیا تھا۔ زعفرانی پارٹی نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شیواجی مہاراج کی توہین قرار دیا۔

یاد رہے کہ اس سے ایک دن قبل مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر شانِ ہند نہال احمد کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر آویزاں ہونے پر بھی شیو سینا کے کارپوریٹروں اور بعض ہندو تنظیموں نے اعتراض کیا تھا، جس کے بعد سیاسی ماحول پہلے ہی گرم تھا۔

ادھر مہاراشٹرا کانگریس کے لیڈر سچن ساونت نے بی جے پی پر "دوہرے معیار" اپنانے اور فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ماضی میں بی جے پی کے رہنما مختلف بلدیاتی اداروں میں ٹیپو سلطان کے نام سے قراردادیں منظور کرچکے ہیں۔ انہوں نے اکولا اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2012 میں اکولا میونسپل کارپوریشن میں اسٹینڈنگ کمیٹی ہال کا نام "شہیدِ وطن شیرِ میسور ٹیپو سلطان" رکھنے کی قرارداد پیش کی گئی تھی۔

ساونت نے مزید کہا کہ 2013 میں ممبئی کے ایم ایسٹ وارڈ میں ایک سڑک کو "شہید ٹیپو سلطان مارگ" کا نام دینے کی تجویز کو بی جے پی کارپوریٹروں کی حمایت حاصل تھی، جبکہ 2001 میں اندھیری (ویسٹ) میں "شیرِ میسور ٹیپو سلطان مارگ" کے نام سے سڑک کا افتتاح بھی بی جے پی لیڈروں کی موجودگی میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے ٹیپو سلطان کے مزار پر حاضری دے کر تعریفی کلمات درج کیے تھے، جبکہ 2017 میں اُس وقت کے صدر جمہوریہ رامناتھ کوند  نے کرناٹک اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ٹیپو سلطان کی ستائش کی تھی۔

دوسری جانب بی جے پی، پونے سٹی یونٹ کے صدر دھیراج گھاٹے نے کہا ہے کہ سپکل کے خلاف ہندوؤں کے جذبات مجروح کرنے کے الزام میں پاروتی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔

تاریخی طور پر ٹیپو سلطان برصغیر کے اُن عظیم حکمرانوں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف غیر معمولی جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انگریزوں کے سامنے سر جھکانے کے بجائے میدانِ جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا پسند کیا اور بالآخر اپنی جان قربان کردی۔ ان کا مشہور قول کہ "گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے" اُن کی عملی زندگی میں پوری طرح جھلکتا ہے۔ انہوں نے واقعی ایک شیر کی مانند زندگی گزاری اور غلامی قبول کرنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی، اسی لیے انہیں تاریخ میں عزت، وقار اور حریت پسندی کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔


Share: