ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / منی لانڈرنگ کیس: سپریم کورٹ کی مرکزی حکومت کو سخت سرزنش، غیر متعلقہ دلائل مسترد

منی لانڈرنگ کیس: سپریم کورٹ کی مرکزی حکومت کو سخت سرزنش، غیر متعلقہ دلائل مسترد

Thu, 16 Jan 2025 12:10:49    S.O. News Service

نئی دہلی  ، 17/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)سپریم کورٹ نے بدھ (15 جنوری) کو منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے مرکز کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے طے شدہ اصولوں کے خلاف دلائل پیش کرنے کا رجحان کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ تبصرہ ایک خاتون ملزمہ کی پی ایم ایل اے کے تحت ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران کیا گیا، جہاں عدالت نے قانون کی پاسداری کے اصول پر زور دیا۔

عرضی میں ای ڈی نے پی ایم ایل اے میں ضمانت کی سخت شرائط سے خواتین کو چھوٹ دیے جانے کے باوجود مخالفت ظاہر کی تھی۔ جسٹس اے ایس اوکا نے کہا کہ وہ ضمانت کی حقدار ہیں، اس کی ضمانت پر کیوں اعتراض کیا گیا؟ جواب میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ ’’بالکل وہ ضمانت کی حقدار ہیں۔ براہ کرم ہمیں جواب داخل کرنے کی اجازت دیں۔ مِس کمیونکیشن کی وجہ سے کچھ کنفیوژن ہو گیا تھا۔‘‘

جسٹس اوکا نے اس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم قبول کرتے ہیں کہ ہم مکمل قانون نہیں جانتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ہم قانون کی کچھ دفعات کو جانتے ہیں۔ اگر عدالت کے سامنے پیش ہونے والے وکیل اس بنیاد پر آگے بڑھیں گے تو کیسے چلے گا؟ اس طرح کی دلیل کو کیا مانا جائے؟ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اس طرح کی دلیلیں نہیں سنی جائیں گی۔ عدالت کی سخت تنقید کے بعد اے ایس جی مہتا نے کہا کہ ’’یہ ارادہ نہیں تھا، لیکن میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ براہ کرم مواد دیکھیں۔ خواتین کو سی آر پی سی کے ساتھ ساتھ پی ایم ایل اے کے تحت خصوصی علاج ملتا ہے، لیکن یہاں خواتین خود ہی سرغنہ ہے۔ یہی میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہمیں جمعہ تک کا وقت دیں تب تک ہم تفصیلی رپورٹ آپ کے سامنے پیش کریں گے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے خاتون کی عرضی سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اے ایس جی کو جواب داخل کرنے کا وقت بھی دیا ہے۔


Share: