ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / بھگوا ملزمین بری نہیں ہوئے، شواہد کے فقدان پر شک کا فائدہ ملا: فیصلے میں تفتیشی خامیوں کا انکشاف؛ کیس نے غائب کئے گواہوں کے بیانات ؟

بھگوا ملزمین بری نہیں ہوئے، شواہد کے فقدان پر شک کا فائدہ ملا: فیصلے میں تفتیشی خامیوں کا انکشاف؛ کیس نے غائب کئے گواہوں کے بیانات ؟

Sun, 03 Aug 2025 12:21:09    S O News
بھگوا ملزمین بری نہیں ہوئے، شواہد کے فقدان پر شک کا فائدہ ملا: فیصلے میں تفتیشی خامیوں کا انکشاف؛ کیس نے غائب کئے گواہوں کے بیانات ؟

ممبئی ، 3/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) مالیگاؤں میں ۲۰۰۸ء میں ہونے والے بم دھماکہ کے کیس سے بھگوا خیمہ کے ملزمین کو بری کرنے کے ایک ہزار ۳۶؍ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیس کے ملزمین کو کلین چٹ دے کر نہیں بلکہ شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا ہے۔

تفتیشی ایجنسیوں کے آپسی تضاد، اہم گواہوں کے بیان سے منحرف ہونے کے ساتھ تفتیش کاروں پر ٹارچر کا الزام عائد کرنے اور استغاثہ کے ذریعہ اہم گواہوں کو عدالت نہ بلانے سے ملزمین کو فائدہ پہنچا۔یاد رہے کہ مقامی پولیس کے پاس سے اس کیس کی تفتیش پہلے اے ٹی ایس کو سونپی گئی تھی اور بعد میں اسے این آئی اے کے سپرد کردیا گیا۔ این آئی اے نے اپنے طور پر اس کیس کی مزید تفتیش کی تھی اور کئی ایسی چیزیں ریکارڈ پر لائیں جو اے ٹی ایس کی تفتیش سے میل نہیں کھاتیں۔  جج اے کے لاہوٹی نے تفتیشی ایجنسیوں کے آپسی تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں ایک جگہ کہاہے کہ اے ٹی ایس کا دعویٰ ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت نے ملزم سدھاکر چترویدی کی  دیولالی میں واقع رہائش گاہ میں ایل ایم ایل فریڈم موٹر سائیکل میں آر ڈی ایکس نصب کیا تھا۔ جبکہ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ یہ کام اندور میں ہوا تھا اور سیندھوا بس اسٹینڈ سے موٹر سائیکل مالیگائوں لائی گئی تھی۔

اس پورے کیس کا دارومدار اس بات پر تھا کہ دھماکہ موٹر سائیکل میں نصب کئے گئے بم میں ہوا تھا جبکہ جج نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ تفتیشی ایجنسیاں اور استغاثہ یہ ثابت ہی نہیں کرسکے کہ بم موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ جج کے مطابق گاڑی کی ڈکی میں آر ڈی ایکس اور امونیم نائٹریٹ کو ملا کر بنایا گیا بم ہونے کے الزام کو ثابت کرنے  کے  لئے اُس وقت کے ناسک کے ڈائریکٹوریٹ آف  فارینسک سائنس لیباریٹری کے اسسٹنٹ کیمیکل اینلائزر ڈاکٹر سہاس باکرے کی رپورٹ پر انحصار کیا گیا ہے۔ تاہم عدالت میں جرح کے دوران ڈاکٹر سہاس نے قبول کیا کہ انہوں نے کوئی سائنٹیفک ٹیسٹ نہیں کیا تھا جس کی بنیاد پر وہ یہ ثابت کرسکیں کہ بم گاڑی کی سیٹ کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ اپنی رپورٹ میں انہوں نے یہ بات محض اپنے مشاہدہ کی بنیاد پر لکھی ہے اور یہ صرف ان کا اندازہ تھا کہ بم سیٹ کے نیچے لگایا گیا ہوگا۔ انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا  ۔

اس بیان کی بنیاد پر جج نے کہا کہ ’’یہ بم دھماکہ کا ایک سنگین کیس ہے جس میں اندازے لگانا کافی نہیں ہے۔ ایک ماہر جسے جائے حادثہ پر خصوصیت سے سائنسی طریقہ سے ثبوت اکٹھے کرنےاور تفتیشی ایجنسی کی رہنمائی کرنے کیلئے بلایا گیا ہواس سے یہ امید بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ صرف اندازہ لگائے۔ ایسے موقع پر کسی ماہر کو لازمی طور پر سائنٹفک ٹیسٹ کرکے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا چاہئے تھا۔‘‘ جج نے یہ بھی نوٹ کیاکہ اس ماہر کو اپنی رپورٹ فوری طور پر تفتیشی ایجنسی کو دے دینی چاہئے تھی لیکن اس نے تقریباً ۱۵؍ دن رپورٹ اپنے پاس رکھنے کے بعد تفتیش کاروں کو سونپی۔

اس تعلق سے خصوصی جج لاہوٹی نے کہا ہےکہ ’’موٹرسائیکل کی سیٹ کے نیچے بم رکھا ہونے کا دعویٰ سائنسی نہیں بلکہ محض اندازہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دھماکہ کیلئے استعمال ہونے والے اجزاء معلوم کرنے کیلئے بنیادی ٹیسٹ بھی نہیں کیا گیا تھا۔

انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈٖیا  کی  رپورٹ کے مطابق مقدمے میں استغاثہ کی ناکامی کی بڑی وجہ اہم شواہد، خاص طور پر گواہوں کے اصل بیانات کا غائب ہونا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، عدالت نے نوٹ کیا کہ استغاثہ سیکشن 164 سی آر پی سی کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیے گئے گواہوں کے اصل بیانات پیش کرنے میں ناکام رہا، جو کہ ایک قابل قبول اور مضبوط شہادت سمجھی جاتی ہے۔ ان میں سے 13 بیانات مبینہ سازشی میٹنگوں سے متعلق تھے، جن میں مسلمانوں سے بدلہ لینے اور ’ہندو راشٹر‘ قائم کرنے جیسے موضوعات زیر بحث آئے تھے۔ یہ بیانات 2016 میں عدالتی ریکارڈ سے غائب ہو گئے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ اپریل 2016 میں یہ انکشاف ہوا کہ ان اہم بیانات پر مشتمل اصل دستاویزات عدالت کے ریکارڈ سے غائب ہو چکی ہیں۔ متعدد بار تلاش کے باوجود یہ دستاویزات نہیں مل سکیں۔ نومبر 2016 میں اے ٹی ایس نے عدالت میں حلف نامہ جمع کراتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تین گواہوں کے بیانات کی تصدیق شدہ نقول موجود ہیں اور انہیں بطور ثانوی شہادت قبول کیا جائے، تاہم ملزمان نے اس پر اعتراض کیا۔

2 جنوری 2017 کو خصوصی این آئی اے عدالت نے ابتدائی طور پر ان نقول کو قبول کر لیا، لیکن ملزم سمیر کلکرنی نے اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ 2019 میں ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی اور کہا کہ ان نقول کی اصل سے تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا ریکارڈ موجود ہے جو ان کی اصل سے تیاری کو ثابت کرے۔ عدالت نے استغاثہ کو ہدایت دی کہ نئی درخواست دے کر ان کی صداقت کی جانچ کی جائے، لیکن یہ کارروائی کبھی مکمل نہیں کی گئی۔

اس کے بجائے، استغاثہ نے گواہوں سے صرف یہ سوال پوچھا کہ کیا ان کے بیانات سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے تھے، جس کا گواہوں نے اثبات میں جواب دیا، لیکن عدالت نے اسے ناکافی قرار دیا اور اس بنیاد پر تمام ملزمان کو بری کر دیا۔


Share: