نئی دہلی ، 6/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ سے واپس آنے والے تارکین وطن کے مسئلے پر آج لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ تین مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، تو اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی کی۔ ہنگامے کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایوان میں اپنے بیان کا آغاز کیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اراکین سے بجٹ پر بحث کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے آپ کو منتخب کیا ہے۔ بجٹ پر اہم بحث ہو سکتی ہے۔ آپ مالی معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے علاقے کی ترقی کی بات کر سکتے ہیں۔ بجٹ کے ذریعے سماجی اور معاشی تبدیلیاں کیسے لائی جا سکتی ہیں اس بارے میں تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ آپ بحث نہیں کرنا چاہتے۔ اسپیکر کی درخواست پر بھی جب ہنگامہ نہ رکا تو ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اس سے پہلے جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے دو بار ملتوی ہونے کے بعد دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ انہوں نے اراکین سے ہنگامہ آرائی نہ کرنے کی اپیل کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔
پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے اراکین سے گزارش کی کہ وہ بجٹ پر بحث کی اجازت دیں کیونکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر سہ پہر 3.30 بجے اس معاملے پر بیان دینے والے ہیں جس پر وہ ہنگامہ کر رہے ہیں، لیکن اراکین نے ان کی بات نہیں سنی اور ہنگامہ آرائی جاری رکھی، جس کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر نے ایوان کی کارروائی سہ پہر 3:20 بجے تک ملتوی کر دی۔
ایک بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد دوپہر 12 بجے جیسے ہی دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اراکین نے پہلے کی طرح شور مچا نا شروع کردیا۔ اس پر سائکیا نے شور شرابے کے درمیان ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے اور اپوزیشن اراکین سے ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کی اپیل کی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن اراکین ایوان نہیں چلانا چاہتے جس پر نعرے بازی ہوتی رہی۔ اس پر سائکیا نے ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
صبح گیارہ بجے بھی ہنگامہ آرائی ہوئی اور جیسے ہی ایوان کا اجلاس شروع ہوا اپوزیشن اراکین نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر زبردست نعرے بازی شروع کر دی اور امریکہ سے جبراً ڈی پورٹ کئے جانے والے ہندوستانیوں کے معاملے پر نعرے بازی شروع کر دی۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوالات کے لیے ترنمول کانگریس کے کیرتی جھا آزاد کا نام لیا اور شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے جواب دینا شروع کیا، لیکن اس دوران ہنگامہ اور بڑھ گیا۔ اسپیکر نے کہا کہ آپ کے تحفظات حکومت کے نوٹس میں ہیں۔ یہ خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے۔ یہ کسی اور ملک کا معاملہ ہے اور حکومت کے علم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ سوال ایک اہم وقت ہے۔ بڑی مشکل سے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ منصوبہ بند طریقے سے ایوان میں خلل ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ برلا کی بار بار درخواست کے باوجود ہنگامہ ختم نہیں ہوا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔