کولکاتہ، 19/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)مغربی بنگال کے آر جی کر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل میں زیر تربیت خاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے معاملے میں سیالدہ سول اور کریمنل کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کلیدی ملزم سنجے رائے کو قصوروار قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ دوپہر تقریباً ڈھائی بجے کورٹ روم نمبر 210 میں سنایا گیا۔ ملزم نے عدالت میں اپنے دفاع میں کہا کہ وہ بے گناہ ہے اور پھنسایا گیا ہے، جس پر جج نے اسے پیر (20 جنوری) کو بیان دینے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے سزا کے لیے بھی 20 جنوری کی تاریخ طے کی ہے۔ سنجے رائے کو بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعات 64، 66 اور (1)103 کے تحت عصمت دری اور قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل ضلع و سیشن جج انربان داس کی عدالت میں 11 نومبر کو اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔ عدالت کی ہدایت پر اس معاملے کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے پہلے ہی فرد جرم داخل کر دیا ہے۔ آج معاملے کی سماعت کے پیش نظر بڑی تعداد میں مظاہرین عدالتی احاطہ کے باہر جمع ہوئے تھے۔ اس بھیڑ کو دیکھ کر سیالدہ عدالتی احاطہ میں سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔ کولکاتا پولیس نے عدالتی احاطہ میں داخلہ کو کنٹرول کرنے اور سبھی موجود لوگوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کئی بیریکیڈس بھی لگائے تھے۔
عدالت کے فیصلہ سے قبل متاثرہ کے والد نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ نے خود کہا تھا کہ وہ رات کے 2 بجے تک جاگ کر مانیٹر کر رہی تھیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ان کا اس میں کیا مفاد تھا۔ صرف کلیدی ملزم ہی نہیں، سبھی قصوروار سامنے آنے چاہئیں۔‘‘ اس سے قبل متاثرہ کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھی اپنی تکلیف بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملزمین کو سزا ملنے پر ہمیں کچھ راحت ملے گی۔ جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا، تب تک ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں گے۔ ہم ملک کے لوگوں سے بھی حمایت مانگیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ کولکاتا کے آر جی کر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل میں جونیئر ڈاکٹر کے ساتھ درندگی کا واقعہ 9 اگست 2024 کو پیش آیا تھا۔ مہلوکہ میڈیکل کالج میں چیسٹ میڈیسن ڈپارٹمنٹ کی پوسٹ گریجویشن سیکنڈ ایئر کی طالبہ اور زیر تربیت ڈاکٹر تھی۔ 8 اگست کو اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد رات کو 12 بجے اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ ڈنر کیا۔ اس کے بعد سے اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ واقعہ کے دوسرے دن صبح اس وقت میڈیکل کالج میں ہنگامہ برپا ہو گیا جب چوتھی منزل کے سمینار ہال سے نیم عریاں حالت میں خاتون جونیئر ڈاکٹر کی لاش برآمد ہوئی۔
جائے حادثہ سے مہلوکہ کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی برآمد کیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کی شروعاتی رپورٹ سے پتہ چلا کہ خاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری کی گئی تھی۔ جونیئر خاتون ڈاکٹر کی لاش گدے پر پڑی ہوئی ملی تھی اور گدے پر خون کے نشانات بھی موجود تھے۔ مہلوکہ کے جسم پر بھی کئی مقامات پر خون کے نشانات تھے۔ ہونٹ، گردن، پیٹ، بائیں ٹخنے اور داہنے ہاتھ کی انگلی پر بھی چوٹ کے نشانات ملے تھے۔ اس واقعہ کے بعد مغربی بنگال ہی نہیں، پورے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے کئی دنوں تک ہڑتال کی اور حکومت سے ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔