نئی دہلی ،2/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)2000 روپے کے 98.18 فیصد نوٹ بینکنگ نظام میں واپس آ چکے ہیں، جبکہ عوام کے پاس اب صرف 6471 کروڑ روپے مالیت کے نوٹ باقی ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ہفتہ کے روز اس حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ آر بی آئی نے 19 مئی 2023 کو 2000 روپے کے نوٹوں کو گردش سے واپس لینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے یہ نوٹ مسلسل بینکوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ اب ان نوٹوں کا ایک معمولی حصہ ہی باقی رہ گیا ہے، جسے بینکنگ نظام میں واپس لانے کا عمل جاری ہے۔
آر بی آئی نے اپنے تازہ اپڈیٹ میں کہا ہے کہ 19 مئی 2023 کو کاروبار بند ہونے کے دوران 2000 روپے کے 3.56 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ موجود تھے۔ 28 فروری 2025 کو کاروبار بند ہونے کے دوران بازار میں موجود 2000 کے نوٹوں کی تعداد گھٹ کر 6471 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ آر بی آئی نے کہا کہ ’’19 مئی 2023 تک چلن میں رہے 2000 روپے کے نوٹوں کے 98.18 فیصد نوٹ بینکنگ سسٹم میں واپس آ چکے ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ 2000 روپے کے بینک نوٹ جمع کرنے اور بدلنے کی سہولت 7 اکتوبر 2023 تک سبھی بینک برانچ پر دستیاب تھی۔ فی الحال یہ سہولت آر بی آئی کے 19 دفاتر میں دستیاب ہے۔ 9 اکتوبر 2023 سے آر بی آئی کے دفاتر بھی عوام اور اداروں سے ان کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرنے کے لیے 2000 روپے کے بینک نوٹ قبول کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ ہندوستانی ڈاک کے ذریعہ ملک کے کسی بھی ڈاک گھر سے 2000 روپے کے نوٹ کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے لیے آر بی آئی کے کسی بھی دفتر میں بھیج سکتے ہیں۔ آر بی آئی نے صاف لفظوں میں یہ کہا ہے کہ 2000 روپے کے بینک نوٹ جائز کرنسی بنے رہیں گے۔