ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ڈی ایم کے طلبہ ونگ کا جنتر منتر پر یو جی سی مسودہ قواعد کے خلاف احتجاج، راہل گاندھی سمیت دیگر رہنما شامل ہوں گے

ڈی ایم کے طلبہ ونگ کا جنتر منتر پر یو جی سی مسودہ قواعد کے خلاف احتجاج، راہل گاندھی سمیت دیگر رہنما شامل ہوں گے

Thu, 06 Feb 2025 13:11:12    S.O. News Service

نئی دہلی ،  6/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے مجوزہ نئے قواعد کے خلاف آج دہلی کے جنتر منتر پر ڈی ایم کے کی طلبہ ونگ کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس احتجاج میں کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور ڈی ایم کے کے دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی شریک ہوں گے۔

ڈی ایم کے کی طلبہ شاخ نے اعلان کیا ہے کہ یہ احتجاج صبح 10 بجے شروع ہوگا، جس میں انڈیا بلاک میں شامل مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہوں گے۔ یہ مظاہرہ یو جی سی کے ان مسودہ قواعد کے خلاف کیا جا رہا ہے، جن کے بارے میں ریاستی حکومتوں اور اپوزیشن جماعتوں کو خدشہ ہے کہ وہ وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ریاستوں کی تعلیمی خودمختاری پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

اس سے قبل 9 جنوری کو تمل ناڈو اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں یو جی سی کے مسودہ قواعد کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین وفاقی طرز حکومت پر حملہ ہیں اور تمل ناڈو کی اعلیٰ تعلیمی پالیسی کو متاثر کرتے ہیں۔ اسٹالن نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ایک خط لکھ کر بھی ان قواعد کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور دیگر اپوزیشن حکومتوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنی اسمبلیوں میں ایسی ہی قراردادیں منظور کریں۔

نئے مجوزہ قواعد کے مطابق نجی شعبے اور غیر تدریسی پس منظر رکھنے والے افراد کو بھی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اس سے مرکزی حکومت کو اپنے نظریاتی حامیوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھانے کا موقع ملے گا، چاہے ان کے پاس تعلیمی اور انتظامی تجربہ نہ ہو۔

قبل ازیں 10 جنوری کو ڈی ایم کے کی طلبہ شاخ نے چنئی میں اسی مسئلے پر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ قوانین ریاستوں کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔

یو جی سی کے نئے قواعد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امیدوار اپنی پسند کے مضمون میں یو جی سی نیٹ پاس کر کے تدریسی عہدوں کے لیے اہل ہو سکتے ہیں، چاہے ان کی گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں مختلف مضامین میں کیوں نہ ہوں۔

علاوہ ازیں، نئے ضوابط میں وائس چانسلر کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس میں تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز، پبلک پالیسی، سرکاری انتظامیہ اور صنعتوں سے وابستہ ماہرین کو بھی اہل قرار دیا گیا ہے۔

یو جی سی کے چیئرمین ایم جگدیش کمار نے 10 جنوری کو ان قواعد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترامیم شفافیت کو یقینی بناتی ہیں اور تقرری کے عمل میں ابہام کو دور کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، وائس چانسلر کی تقرری کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں ایک رکن کو گورنر، ایک کو یو جی سی چیئرمین اور ایک کو یونیورسٹی کی سینٹ یا ایگزیکٹو کونسل نامزد کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ترامیم سے مجموعی طور پر یونیورسٹیوں کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور یہ شفافیت کو فروغ دیں گی، تاہم ریاستی حکومتیں اور اپوزیشن جماعتیں ان پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔


Share: