ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور: مویشی رفت معاملے میں ملزم کے پیر میں گولی مارنے کی کارروائی کے بعد ایس پی کی وضاحت؛ کہا، پولیس انسپکٹر کو دیا جائے گا 'چارج میمو'

مینگلور: مویشی رفت معاملے میں ملزم کے پیر میں گولی مارنے کی کارروائی کے بعد ایس پی کی وضاحت؛ کہا، پولیس انسپکٹر کو دیا جائے گا 'چارج میمو'

Sat, 25 Oct 2025 10:59:45    S O News

مینگلور،  25 / اکتوبر (ایس او نیوز) ضلع ایس پی ڈاکٹر ارون کے نے بتایا ہے کہ ایشور منگلا کے پاس غیر قانونی طور پر رفت کیے جا رہے مویشیوں سے بھری لاری روکنے کے سلسلے جو کارروائی کی گئی تھی، اس میں پولیس کی طرف سے ہوئی کوتاہی کو دیکھتے ہوئے پتور رورل پولیس انسپکٹر کو 'چارج میمو' دیا جائے گا ۔
    
خیال رہے کہ 'چارج میمو' محکمہ پولیس کی طرف سے اپنے اسٹاف کے خلاف ضابطے کی اندرونی کارروائی کے لئے دیا جانے والا'چارج شیٹ' جیسا نوٹس ہوتا ہے ۔
    
دراصل ایشور منگلا میں مویشیوں کی گاڑی کو روکنے اور ضبط کرنے کے دوران ایک طرف مویشیوں کی غیرقانونی رفت کے ملزم کے پیر میں پولیس نے گولی مار کر اسے زخمی کر دیا تھا ۔ دوسری طرف ہندوتوا لیڈر ارون کمار پوتیلا نے موقع پر پہنچ کر وہاں موجود کانسٹیبل کے فون سے رورل انسپکٹر سے بات چیت کرتے ہوئے گاڑی میں موجود مویشیوں کو اتارنے کی اجازت طلب کی تھی اور انسپکٹر کی اجازت ملنے کے بعد ارون پوتیلا نے خود ہی ہاتھ میں درانتی لے کر ٹرک کی رسیاں کاٹنے اور تار پال اتار کر جانوروں کو چھڑانے کی کارروائی انجام دی تھی ۔ 
    
سوشیل میڈیا پر اس کے خلاف اعتراضات اور منفی تبصروں کو دیکھتے ہوئے ضلع ایس پی نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ انسپکٹر نے فون پر بات کرنے کے دوران احتیاط نہیں برتی اور فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کا مظاہرہ  کیا جس کی وجہ سے جائے وقوعہ ایک سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل ہوگیا ۔ اس غلطی کے لئے انسپکٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے 'چارج میمو' دیا جائے گا ۔
    
ضلع ایس پی نے بتایا کہ جب مویشیوں کی گاڑی روکی گئی تو موقع پر مقامی افراد کے ساتھ ارون کمار پوتیلا بھی موجود تھا جس نے لاری پر جانوروں کو اتارنے میں پولیس کی مدد کی تھی ۔ لاری میں موجود دیگر جانوروں کی ہلاکت روکنے کے مقصد سے انسپکٹر نے ارون کمار پوتیلا کو گاڑی سے جانور اتارنے کی اجازت دی تھی ۔ اس واقعہ میں کوئی بھی مذہبی گروہ یاکسی بھی فرد کے ساتھ پولیس کی کسی بھی قسم کی سانٹھ گانٹھ نہیں ہے ۔ مگر فون پر بات کرتے ہوئے انسپکٹر نے احتیاط نہیں برتی تھی اور ایک غلط فیصلہ لیا تھا ۔
    
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی منصفانہ جانچ کرنے کے مقصد سے کیس کو پتور سب ڈیویژن سے باہر منتقل کیا گیا ہے ۔ اس واقعے سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیغامات عام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ 


Share: