بھٹکل، 7 ستمبر (ایس او نیوز): معروف این آر آئی، رابطہ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری اور مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے نائب صدر، جناب عتیق الرحمن منیری نے اتوار کے روز بھٹکل کی حال ہی میں افتتاح شدہ ہائی ٹیک فِش مارکٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مارکٹ میں فراہم کی گئی سہولیات اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مارکٹ انہیں دبئی کی ہائی جینک فِش مارکٹ کی یاد دلاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نئی فِش مارکٹ میں پارکنگ کا بہترین انتظام، صفائی ستھرائی، ٹوائلٹ اور عوام کے بیٹھنے کی سہولت موجود ہے۔ مچھلیوں کے پانی کی نکاسی کے لیے بھی مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ ان سہولیات کا بھرپور استعمال کریں۔ انہوں نے پرانی مچھلی مارکٹ کی خستہ حالی اور وہاں کی گندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باہر ہمیشہ ٹریفک جام رہتا تھا اور سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز سے اس کی ناقص حالت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا تھا۔
جناب عتیق الرحمن منیری نے بھٹکل میونسپالٹی کے عہدیداران بالخصوص انچارج صدر الطاف کھروری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مارکٹ کو عوام کے لیے کھولنے میں جس جرات کا مظاہرہ کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مقامی نوجوانوں کو بھی مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے اس مارکٹ کو فعال بنانے اور عوام کو یہاں کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور مخالفین کو کرارا جواب دیا۔

انہوں نے بھٹکل کے عوام اور مچھلی بیوپاریوں سے اپیل کی کہ وہ اسی نئی مارکٹ کا رخ کریں، یہیں کاروبار کو فروغ دیں اور صاف ستھری و صحت بخش مچھلیوں کے استعمال کو یقینی بنائیں۔
چونکہ اس مچھلی مارکٹ کے قریب ہی سنتے مارکٹ بھی واقع ہے، اس وجہ سے آج یہاں عوام کا غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا۔ مچھلی مارکٹ کے اندر خریداروں کی بھیڑ کے ساتھ ساتھ مچھلی فروشوں کے لیے جگہ کم پڑنے کے باعث کئی خواتین کو باہر بیٹھ کر مچھلیاں فروخت کرنی پڑیں۔
اس سلسلے میں الطاف کھروری نے وضاحت کی کہ مچھلی فروش خواتین کو اندر جگہ نہ ملنے کی وجہ سے انہیں باہر بیٹھنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ میونسپل میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا مارکٹ کے باہر بھی مچھلی فروشوں کے بیٹھنے کے لیے ٹینٹ کا انتظام کیا جائے یا کوئی دوسرا متبادل حل نکالا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مچھلی مارکٹ کے اندر پانی کی نکاسی کے لیے بنائی گئی نالیوں کو آئندہ جالی سے ڈھکنے کا منصوبہ بھی ہے تاکہ چلنے کے دوران عوام کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔