انکولہ، 13 / نومبر (ایس او نیوز) تعلقہ کے کینی میں تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف متاثرین نے احتجاج شروع کیا ہے، جس کے دوران اس مظاہرے میں اعلیٰ افسران اور عوامی منتخب نمائندوں کو شریک ہونے اور بندرگاہ کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کیا گیا ۔
سماج کے تمام طبقات کی نمائندگی کرنے والوں پر مشتمل کمیٹی کی طرف سے بندرگاہ کی مخالفت اور انکولہ بچاو کے نعرے لگاتے ہوئے تحصیلدار کو دئے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے بندرگاہ مخالف احتجاج جاری ہے ۔ عوامی منتخب نمائندوں کو مدعو کرنے کے باوجود ایک بھی نمائندہ یا کوئی اعلیٰ افسر آج تک احتجاج کے مقام پر نہیں پہنچا ۔ غیر حقیقت پسندانہ اور غیر سائنٹفک منصوبے کے ذریعے انسانی زندگیوں کو بری طرح متاثر کرنے والے ایسے منصوبے پر عمل کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ اور متعلقہ محکمہ جات کو کئی بار یاد داشتیں پیش کی جا چکی ہیں ۔ اب 12 نومبر سے 25 نومبر تک تحصیلدار دفتر سے متصلہ مین روڈ کے کنارے ایک علامتی دھرنا ستیہ گرہ شروع کی ہے ۔ اس دھرنا ستیہ گرہ کے موقع پر ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا، رکن پارلیمان وشویشورا ہیگڑے کاگیری، کاروار انکولہ ایم ایل اے ستیش سئیل، ودھان پریشد کے رکن اور اعلیٰ افسران کو احتجاجی مظاہرے کے مقام تک آنا اور بندرگاہ مخالف بیان دیتے ہوئے ہمارے اندر بھروسہ اور اعتماد جگانا چاہیے ۔
میمورنڈم میں تبنیہ کی گئی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوا اور ان کا یہ مطالبہ نہیں مانا گیا تو پھر آنے والے دنوں میں کسی بھی مرحلے کے سخت ترین احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔