منگلورو 26 / اکتوبر (ایس او نیوز) دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع سے پچھلی ایک دہائی کے اعداد و شمار ایک تشویشناک رجحان ظاہر کرتے ہیں جس میں بچیوں کی پیدائش کی تعداد لڑکوں کی پیدائش کے مقابلے میں کم رہتی ہے اور یہ کمی اس علاقے میں ہو رہے مسلسل صنفی عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین صحت کو اس بات پر بھی تشویش ہو رہی ہے کہ یہاں تولیدی زرخیزی (فرٹیلٹی) کی شرح میں بھی مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔
حکومتی ریکارڈ کے اعداد و شمار کے مطابق دکشن کنڑا میں سال 2013-14 کے دوران 13,536 لڑکوں کی پیدائش ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں لڑکیوں کی پیدائش 12,527 رہی - اس کا مطلب یہ ہے ہر 1,000 لڑکوں کے لیے لڑکیوں کا تناسب 925 ہوا ۔
سال 2024-25 تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس عرصے میں 11,235 لڑکوں اور 10,587 لڑکیوں کی پیدائش ہوئی ہے جس سے یہ تناسب تھوڑا سا بڑھ کر ایک 1,000 لڑکوں کے مقابلے میں 942 لڑکیوں پر آ گیا ۔
اگر اڈپی ضلع کی بات کریں تو یہاں پر یہ خلا برقرار ہے ۔ 2014 میں ضلع میں 9,193 بچیوں کی پیدائش کے مقابلے میں 10,473 لڑکوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی جو کہ 1,280 لڑکیوں کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ البتہ سال 2024 میں یہ فرق کچھ کم ہوا ہے ۔ یعنی اس عرصے میں 5,646 لڑکے اور 5,515 لڑکیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ تاہم خواتین کی پیدائش کی تعداد 10 برس کے عرصے میں مسلسل نیچے کی طرف اتر رہی ہے ۔
محکمہ صحت کے افسران نے بتایا کہ مرد بچے کو ترجیح دینے والے جوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس رجحان سے یہ ہوتا ہے کہ اگر پہلا بچہ لڑکا ہے تو بہت سے جوڑے اسی ایک بچے پر رک جاتے ہیں، جب کہ اگر پہلی لڑکی ہے، تو وہ لڑکے کی امید میں دوسرے بچے کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ اس ذہنیت نے صنفی تناسب کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے ۔
دکشن کنڑا میں بھی تولیدی زرخیزی کی شرح گر گئی ہے۔ جبکہ دو دہائیاں قبل زرخیزی کی شرح تقریباً 2% تھی وہیں پر اب یہ صرف 1.5% پر رک گئی ہے ۔
ڈاکٹر اس کمی کی وجہ نہ صرف خواتین کی خواندگی اور بااختیار بنانے بلکہ سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور نفسیاتی عوامل کو بھی قرار دیتے ہیں ۔ ملازمت کا تناؤ، طرز زندگی میں تبدیلی، اور دیر سے حاملہ ہونے کا رجحان بھی اس کی وجوہات ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ زچگی کے وقت ہونے والی اموات کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن شدید خون بہنا اور بچہ دانی کے مسائل جیسی پیچیدگیاں بدستور چیلنجز کے طور پر باقی ہیں ۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اڈپی ضلع میں بھی مجموعی طور پر پیدائش میں کمی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سال 2014 میں یہاں سب سے زیادہ 19,666 بچے پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد سے تعداد میں بتدریج کمی آئی ہے - 2016 میں 18,189، 2017 میں 18,649، 2018 میں 15,978، 2019 میں کوویڈ سے متاثرہ ایام میں 11,568، اور 2024 میں 11,161 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے ۔
اے جے ہاسپٹل، منگلورو کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر پی کے کرن کمار نے اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے "بدلتے طرز زندگی، غذائی عادات، کام سے متعلق ضرورت سے زیادہ تناؤ، اور جوڑوں کے درمیان ایک دوسرے کے لئے وقت کی کمی ان سب نے اسباب نے تولیدی زرخیزی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"