نئی دہلی، 29/جنوری (ایس او نیوز )عدالتوں میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی مشتبہ فرد کو گرفتاری سے قبل نوٹس (پری اریسٹ نوٹس) واٹس ایپ یا دیگر الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے نہیں بھیج سکتے۔ یہ پابندی تعزیراتِ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 41A اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (BNSS) کی دفعہ 35 کے تحت عائد کی گئی ہے۔
ان دفعات کے مطابق، کسی بھی قابلِ شناخت جرم کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران پر لازم ہے کہ وہ مشتبہ شخص کو باقاعدہ تحریری نوٹس جاری کریں اور اسے تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے طلب کریں۔ اگر مشتبہ فرد تعاون کرے تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے پہلے بھی پولیس اختیارات کے غلط استعمال پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ گرفتاری کے عمل میں دفعہ 41A کے تحت نوٹس جاری کرنے کا طریقہ کار نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس راجیش بندل پر مشتمل بینچ نے سینئر وکیل سدھارتھ لتھرا کی سفارشات قبول کرتے ہوئے کہا، ’’تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی پولیس کو واضح احکامات جاری کریں کہ دفعہ 41A (CrPC 1973) اور دفعہ 35 (BNSS 2023) کے تحت صرف انہی طریقوں سے نوٹس جاری کیا جائے جو قانون میں مقرر کیے گئے ہیں۔ واٹس ایپ یا دیگر الیکٹرانک ذرائع سے نوٹس بھیجنے کو قابل قبول یا قانونی متبادل نہیں سمجھا جائے گا۔‘‘
سدھارتھ لتھرا نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سات سال سے کم سزا والے جرائم میں پولیس کو دفعہ 41A کے تحت نوٹس جاری کیے بغیر گرفتاری کا اختیار نہیں ہے۔
دوسری جانب، دورانِ سماعت ایک اور مسئلے پر بات کرتے ہوئے، سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ وہ زیرِ سماعت غریب قیدی جو ضمانتی مچلکے یا زرِ ضمانت ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں قومی قانونی خدمات اتھارٹی (NALSA) کی منظوری سے صرف اپنے تصدیق شدہ آدھار کارڈ اور ذاتی ضمانت کی بنیاد پر رہا کرنے کی سہولت دی جائے گی۔