نئی دہلی ،4/ مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)مہا کمبھ میلہ 2025، جو 26 فروری کو اختتام پذیر ہوا، میں شرکت کرنے والے عقیدت مندوں میں جلدی امراض اور دیگر صحت سے متعلق مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ پریاگ راج سے واپس آنے والے متعدد افراد نے جلد کے انفیکشن کی شکایت کی ہے، جس کی بنیادی وجہ ڈاکٹروں کے مطابق آلودہ پانی ہو سکتی ہے۔ رانچی کے لکشمی کلینک میں ماہر امراضِ جلد، ڈاکٹر یشونت لال نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں جلدی انفیکشن کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، زیادہ تر افراد کو مسلسل خارش اور کھجلی کی پریشانی لاحق ہے، جس کی بڑی وجہ فنگل انفیکشن معلوم ہوتی ہے۔ یہ انفیکشن ممکنہ طور پر گیلے کپڑوں، غیر صحت مند ماحول اور میلے میں مشترکہ سہولیات کے استعمال کے سبب پھیل رہا ہے۔
واضح رہے کہ ۳ فروری ۲۰۲۵ء کو مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے نیشنل گرین ٹریبیونل (این جی ٹی) کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں پریاگ راج میں پانی کی سنگین آلودگی کی تصدیق کی اور گنگا اور یمنا میں فیکل کولیفورم بیکٹیریا کی اعلیٰ سطح سے خبردار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، دریا کا پانی، نہانے کے پانی کیلئے درکار بنیادی معیارات پر پورا اترنے میں ناکام رہا۔ فیکل کولیفارم کی سطح تمام مقامات پر متعدد بار قابل اجازت حد سے تجاوز کر گئی ہے جہاں سے نمونے اکٹھا کئے گئے۔
فیکل کالیفارم بیکٹیریا، پانی میں انسانی اور جانوروں کے فضلے کی موجودگی اور آلودگی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ایسا آلودہ پانی جلد کے انفیکشن، معدے کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ کمبھ میلے کے دوران لاکھوں عقیدت مندوں نے گنگا میں ڈبکیاں لیں جس سے انفیکشن کے خطرہ میں اضافہ ہوا ہے۔
اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کمبھ میلہ کے احاطہ میں فعال اسپتالوں میں جلد کی بیماریوں یا الرجی کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا، "میں نے گنگا کے پانی کے آلودہ ہونے کی جعلی خبروں اور ان دعوؤں کے متعلق سنا جن میں دعویٰ کیا گیا کہ مہا کمبھ کے دوران مقدس ڈبکی سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ صحت کی وزارت بھی میرے پاس ہے، میں روزانہ اسپتال کے رجسٹروں کو چیک کرتا ہوں۔ سنگم میں ڈبکی لگانے کے بعد جلد کی کسی بھی بیماری کا ایک بھی کیس کہیں درج نہیں ہوا ہے، حتیٰ کہ پھوڑے یا پھنسی کا بھی نہیں۔"
این جی ٹی نے گنگا کے پانی کے معیار پر یوپی سرکار کی رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس میں تفصیلی تجزیہ کے فقدان کو نمایاں کیا۔ ٹربیونل نے ریاستی حکومت کو پریاگ راج میں میلے کے مقام پر متعدد مقامات سے پانی کے معیار کی تازہ ترین رپورٹس جمع کرانے کیلئے ایک ہفتہ کا وقت دیا ہے۔