ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پارلیمانی کمیٹی نے وقف (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی، اپوزیشن کا سخت احتجاج

پارلیمانی کمیٹی نے وقف (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی، اپوزیشن کا سخت احتجاج

Wed, 29 Jan 2025 16:42:00    S.O. News Service

نئی دہلی ،29/جنوری (ایس او نیوز )  پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے بدھ کے روز وقف (ترمیمی) بل 2024 کا جائزہ لینے کے بعد اکثریتی ووٹ سے اس کی منظوری دے دی۔ کمیٹی کے چیئرمین جگدمبیکا پال کے مطابق، اس ترمیمی بل کو 15-11 کی اکثریت سے منظور کیا گیا۔

تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے اس بل پر شدید اعتراضات اٹھائے اور اسے "غیر آئینی" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے ذریعے حکومت کو مسلم مذہبی معاملات میں مداخلت کا موقع دیا جا رہا ہے، جو وقف بورڈ کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔

جگدمبیکا پال نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے کئی ترامیم کی منظوری دی ہے، جن سے اپوزیشن کے بعض تحفظات کو بھی دور کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ قانون وقف بورڈ کو مزید شفافیت اور مؤثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلی بار "پسماندہ" مسلمان، غریب افراد، خواتین اور یتیموں کو وقف کے مستفیدین میں شامل کیا گیا ہے۔

بل کی رپورٹ جمعرات کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو پیش کی جائے گی، جس کے بعد پارلیمنٹ اس پر مزید فیصلہ کرے گی۔

اپوزیشن کا احتجاج اور سپریم کورٹ جانے کا عندیہ
کانگریس، ڈی ایم کے، ٹی ایم سی، عام آدمی پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم کے اراکین نے کمیٹی کی کارروائی اور بل کے حتمی مسودے پر شدید نکتہ چینی کی۔ کچھ اراکین نے اپنی مخالفت درج کرائی، جبکہ دیگر نے شام 4 بجے کی ڈیڈ لائن تک اختلافی نوٹ جمع کرانے کا اعلان کیا۔

ٹی ایم سی کے ایم پی کلیان بنرجی نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات "مکمل طور پر غلط اور جانبدارانہ" ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ قانون وقف بورڈز کو تباہ کر دے گا اور حکومت کو ان کے معاملات میں مداخلت کا موقع دے گا۔

کانگریس کے ایم پی سید نصیر حسین نے بل کو "غیر آئینی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اقلیتوں کو نشانہ بنانا ہے۔

ڈی ایم کے کے رہنما اے راجہ نے بھی اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں حکومت کی اکثریت کے باعث یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو ان کی پارٹی اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

حکومت کا موقف اور بل میں کی گئی ترامیم
بی جے پی کے ایم پی تیجسوی سوریہ نے اپوزیشن کی مخالفت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد وقف بورڈز میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ہے، جو بالآخر مسلم کمیونٹی کو بااختیار بنانے میں مدد دے گا۔

منظور شدہ بل میں حکومت کے اس مؤقف کو برقرار رکھا گیا ہے کہ موجودہ قانون میں "وقف بائی یوزر" کی شق کو ختم کیا جائے گا، تاہم ایسے مقدمات جن میں کوئی تنازع نہ ہو یا جو سرکاری املاک نہ ہوں، انہیں ماضی کی بنیاد پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

کمیٹی کی 655 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ "وقف بائی یوزر" کی تعریف کو حذف کرنے کا اطلاق آئندہ کے لیے ہوگا۔

اس کے علاوہ، کمیٹی نے حکومت کے اس اقدام کی توثیق کی ہے کہ وقف بورڈز میں غیر مسلم افراد کو بھی شامل کیا جائے، کیونکہ وہ بطور مستفیدین، تنازعات کے فریق یا دیگر طریقوں سے وقف معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وقف سے متعلق کسی تنازع کی جانچ کا اختیار ضلعی کلیکٹر سے واپس لے کر ریاستی حکومت کے کسی سینئر افسر کو دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ وقف (ترمیمی) بل 2024 کو مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے لوک سبھا میں پیش کیا تھا، جس کے بعد 8 اگست 2024 کو اسے پارلیمانی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔ اس بل کا مقصد وقف ایکٹ 1995 میں ضروری ترامیم کرنا اور وقف املاک کے انتظام و انصرام سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔


Share: