ڈانڈیلی، 17 / ستمبر (ایس او نیوز) ساگر اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی بیلور گوپال کرشنا نے اتر کنڑا کے سداپور کو شامل کرتے ہوئے ساگر ضلع تشکیل دینے کی جو تجویز پیش کی ہے اس کے خلاف سرسی، سداپور، یلاپور اور ڈانڈیلی کی کئی تنظیموں نے آواز اٹھائی ہے ۔
سابق ضلع پنچایت رکن ایس آر ہیگڑے کمبارکولی اور تعلقہ کی دیگر تنظیموں نے سداپور کو شامل کرتے ہوئے ایک علاحدہ سرسی ضلع تشکیل دینے کی مانگ سامنے رکھی ہے ۔ اس کے لئے دلیل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے موجودہ رکن پارلیمان وشویشورا ہیگڑے کاگیری جب ریاستی وزیر تعلیم تھے تو اُس وقت گھاٹ علاقے کے تعلقہ جات پر مشتمل 'سرسی تعلیمی ضلع' تشکیل دیا جا چکا ہے ۔
اسی بنیاد پر اب پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرسی کو 'ریوینیو ضلع' بھی بنانے کا اعلان ہونا چاہیے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ 'ساگر ضلع' میں سداپور تعلقہ کو شامل کرنا بالکل غیر سائنٹفک تجویز ہے ۔ سداپور تعلقہ سمیت اتر کنڑا ضلع کو کتور کرناٹکا کہا جاتا ہے اور یہ بیلگاوی ژون میں شامل ہے ۔ جبکہ ساگر سمیت شیموگہ ضلع قدیم میسورو ژون میں شامل ہے ۔
اس تجویز کی مخالفت کرنے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اتر کنڑا کے بہت ساری محکمہ جاتی علاقائی دفاتر بیلگاوی میں ہیں ۔ اگر ہیسکام کا دفتر ہبلی میں ہے تو ہائی کورٹ بینچ دھارواڑ میں قائم ہے ۔ ساگر اور شیموگہ کے علاقائی دفاتر، ہائی کورٹ بینچ بیلگاوی ژون میں نہیں آتے ہیں ۔ اسی وجہ سے سداپور تعلقہ کو مجوزہ ساگر ضلع میں شامل کرنا بالکل نامناسب اور غیر سائنٹفک ہے ۔