نئی دہلی، 29/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی )ہندوستان میں کریڈٹ کارڈز کی تعداد گزشتہ 5 سالوں میں دسمبر 2024 تک دوگنا ہو کر 10.80 کروڑ ہو گئی ہے، جو کہ دسمبر 2019 میں 5.53 کروڑ تھی۔ اس کے مقابلے میں ڈیبٹ کارڈز کی تعداد میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر 2019 میں ڈیبٹ کارڈز کی تعداد 80.53 کروڑ تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 99.09 کروڑ ہو گئی ہے۔ آر بی آئی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 2024 میں کریڈٹ کارڈز سے 447.23 کروڑ ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 20.37 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس کے مقابلے میں ڈیبٹ کارڈز سے 173.90 کروڑ ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 5.16 لاکھ کروڑ روپے تھی۔
واضح ہو کہ رپورٹ میں اس بات کی بھی جانکاری دی گئی ہے کہ حالیہ سالوں میں ڈیبٹ کارڈ کے استعمال میں کافی کمی آئی ہے۔ جب کہ کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پبلک سیکٹر کے بینکوں (پی ایس بی) کے ذریعہ جاری کی گئی کریڈٹ کارڈ کی تعداد دسمبر 2019 کے اخیر تک 122.6 لاکھ سے بڑھ کر دسمبر 2024 کے اخیر تک 257.6 لاکھ ہو گئی ہے جو 110 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ وہیں پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں کے ذریعہ دسمبر 2024 کے اخیر تک 766 لاکھ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ غیر ملکی بینکوں کے ذریعہ جاری کیے گئے کریڈٹ کارڈ کی تعداد میں کمی آئی ہے اور دسمبر 2024 تک ان کی تعداد 45.94 لاکھ رہ گئی ہے جو کہ دسمبر 2019 میں 65.79 لاکھ تھی۔ اس دوران مارکیٹ شیئر بھی 11.9 فیصد سے کم ہو کر 4.3 فیصد رہ گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوستان کے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم میں یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کی حصہ داری 2024 میں بڑھ کر 83 فیصد ہو گئی ہے جو 2019 میں 34 فیصد تھی۔ بڑے پیمانے پر یو پی آئی لین دین کی والیوم بڑھ کر 2024 میں 17221 کروڑ ہو گئی ہے جو 2018 میں 375 کروڑ تھی۔ اس دوران کُل لین دین کی قیمت 5.86 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 246.83 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔