نئی دہلی، 19/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ووٹر لسٹ میں خامیوں اور نقلی ووٹر شناختی کارڈ کے معاملے پر مسلسل الیکشن کمیشن کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس دوران الیکشن کمیشن نے ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس حوالے سے یو آئی ڈی اے آئی اور ماہرین کے ساتھ جلد تکنیکی مشاورت کا عمل شروع ہوگا۔ کانگریس نے اس فیصلے پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے سیکورٹی اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے جو کسی شہری کو ووٹ کے حق سے محروم نہ کرے۔ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے بھی اس فیصلے پر اپنا ردعمل دیا ہے، تاہم انہوں نے کچھ خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’آج الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آدھار کو ووٹر شناختی کارڈس سے جوڑے گا۔ کانگریس اور انڈیا اتحاد کی پارٹیاں لگاتار ووٹر لسٹ کے ایشوز اٹھاتی رہی ہیں، جس میں غیر معمولی طریقے سے ووٹر لسٹ میں زیادہ لوگوں کا نام جوڑنا، نقلی ووٹر شناختی کارڈ سمیت کئی اہم ایشوز ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آدھار سے نقلی ووٹر شناختی کارڈ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، لیکن سب سے غریب اور سب سے زیادہ محروم طبقات کے افراد کو آدھار لنک کرنے میں مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی ہندوستانی اپنے ووٹ دینے کے حق سے محروم نہ رہے اور رازداری سے متعلق فکر کا حل بھی تلاش کرنا چاہیے۔‘‘
اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے وقت اچانک لاکھوں کی تعداد میں نئے ووٹرس جوڑے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اب جبکہ الیکشن کمیشن نے اس مسئلہ کا اعتراف کر لیا ہے، تو میں اپنے گزشتہ مطالبہ کو دہراتا ہوں، کہ اسے ناموں کو جوڑنے اور ہٹانے کے ایشو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس کی شروعات مہاراشٹر کے 2024 اسمبلی انتخاب اور لوک سبھا انتخاب کے پورے ووٹر لسٹ کی عکسی کاپی کو شیئر کرتے ہوئے کرنی چاہیے۔‘‘
بہرحال، کانگریس کے سرکردہ لیڈران اور ماہرین کے اختیار یافتہ گروپ ’ایگل‘ نے الیکشن کمیشن کے تازہ فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ’ایگل‘ کے ذریعہ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند کے افسران اور تکنیکی ماہرین کے ساتھ الیکشن کمشنرز کی میٹنگ میں آدھار اور ووٹر شناختی کارڈ کو جوڑنے کا فیصلہ لیا گیا۔ یہ اس الزام کا واضح اعتراف ہے جو کانگریس پارٹی اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مشتبہ ووٹر لسٹ پر عائد کرتے رہے ہیں۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کانگریس پارٹی کا اہم الزام یہ تھا کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان صرف 5 مہینوں میں نئے ووٹرس کے رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ نقلی یا ڈپلی کیٹ ووٹرس تھے۔ الیکشن کمیشن نے کانگریس کے ذریعہ اٹھائے گئے ’ایک شخص کے پاس کئی ووٹر شناختی کارڈ‘ کے مسئلہ کا اعتراف کیا ہے، جسے آدھار کا استعمال کر کے ’ڈی-ڈپلی کیشن‘ کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن کی تخلیقی ترکیب کی حمایت کی اور کہا کہ کانگریس ایسے اقدام کی حامی ہے جو ووٹر لسٹ کی شفافیت کو یقینی بناتے ہیں، جو 1949 میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے اس قول کے موافق ہیں کہ ’جمہوریت میں ووٹر لسٹ سب سے بنیادی ہیں، اور انتخابی عمل کی آزادی ایک بنیادی حق ہے‘۔ حالانکہ جاری اس بیان میں کانگریس کے ’ایگل‘ نے یہ بھی کہا کہ یہ دھیان دینا اہم ہوگا کہ آدھار لنکنگ کے سبب کسی بھی بالغ ہندوستانی شہری کو ووٹ دینے کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔