بھٹکل ،31 / مئی (ایس او نیوز) پچھلے کچھ دنوں سے چل رہی بارش کے نتیجے میں رنگین کٹّہ، شمس الدین سرکل اور منکولی نیشنل ہائی وے وغیرہ پر پانی جمع ہونے اور برساتی پانی کی نکاسی کا نظام درست نہ ہونے کی شکایتوں کے بعد کاروار سے نیشنل ہائی وے پروجیکٹ ڈائریکٹر شیو کمار نے متعلقہ علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے ضمن میں ضروری ہدایات دینے کے ساتھ ہی نالوں کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا۔
رنگین کٹہ نیشنل ہائی وے پر چند دن قبل ہی بارش کی نکاسی کے لئے نالہ تعمیر کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود جمعرات دیر شب کو ہوئی زوردار بارش سے رنگین کٹہ نیشنل ہائی وے پر پھر بھاری مقدار میں پانی جمع ہوگیا تھا، اسی طرح شمس الدین سرکل پر بھی پانی جمع ہوجانے سے ہائی وے پر سے گذرنے والی سواریوں کو دشواریاں پیش آئی تھی۔
اس تعلق سے میونسپالٹی کے انچارج صدر الطاف کھروری نے شیوکمار کو بتایا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے رنگین کٹہ میں ایک نالہ ہے، جہاں سے پانی کی نکاسی ہوتی ہے، البتہ شمس الدین سرکل کے قریب پٹرول پمپ کے باہر دو کلورٹ (culvert) (یعنی سڑک کے نیچے سے پانی کے بہاؤ کے لیے بنائے گئے راستے) میں ایک سے پانی بہہ نکلتا ہے، دوسرے میں مٹی بھری ہے، اسی طرح بس اسٹینڈ اور نور مسجد کے قریب واقع کلورٹ بھی پوری طرح بلاک ہوجانے سے پانی کو باہر نکلنے کے لئے راستہ نہیں مل رہا ہے۔الطاف کھروری کے مطابق نیشنل ہائی وے کا کام شروع ہونے کے بعد سے ان نالیوں کی صفائی نہیں ہورہی ہے اور اس کی صفائی کا کام نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کا ہے۔
الطاف کھروری نے یہ بھی بتایا کہ ہائی وے کا پانی سڑک پر جمع ہونے کے بعد ان کے وارڈ سلمان آباد، کوگتی اور آزاد نگرمیں موجود گھروں کے اندر گھس جاتا ہے۔ انہوں نے شیو کمار سمیت ان کے ساتھ تشریف لائے ہوئے دیگر اہلکاروں کو بارش سے متاثرہ تمام علاقوں کا دورہ بھی کرایا، جس کے بعد شیو کمار نے سرکاری اہلکاروں کو بلاک شدہ کلورٹ کی فوری صفائی کی ہدایت دی اور جہاں جہاں culvert غیر قانونی قبضہ جات کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں، اُن قبضہ جات کوہٹا کر وہاں نئے سرے سے کلورٹ بنانے کی ہدایت دی۔

جب نیشنل ہائی وے اتھارٹی، بھٹکل بلدیہ اور کنٹریکٹر کمپنی IRB کے افسران پر مشتمل جائزہ ٹیم سرکاری بس اسٹینڈ اور نور مسجد کےقریب واقع نالوں کے جائزے کے بعد منکولی پہنچی تو یہاں پر عوام نے ان کے سامنے زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نالوں کے ناقص انتظام کی وجہ سے برسات کے موسم میں ان کے گھروں میں پانی بھر جاتا ہے، جس سے بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی گھروں میں اہل خانہ کو پوری رات جاگ کر گزارنی پڑتی ہے۔
مقامی افراد نے کہا کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے اس مسئلے کی شکایت کر رہے ہیں، مگر ہر مانسون میں وہی دُکھ بھری کہانی دہرائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ کے کنارے کئی جگہوں پر کنویں جیسے گڑھے پڑے ہیں، جو پانی سے بھرے رہتے ہیں، مگر کوئی دیکھنے والا نہیں۔
عوام نے بتایا کہ اس سے قبل یہاں پر تین میٹر چوڑے نالے تھے مگر اب ان نالوں کو تنگ نالیوں میں تبدیل کیا گیا ہے اورنالیوں میں جگہ جگہ موجود رکاوٹوں کی وجہ سے مناسب طریقے سے پانی کا بہاو نہیں ہو رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تیز برسات ہونے کی صورت میں سڑک پر پانی جمع ہوتا ہے اور پھر قریب میں واقع گھروں کے اندر گھس جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ نیشنل ہائی وے کے آس پاس مختلف مقامات پر ناجائز قبضے کی وجہ سے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ۔ اس لئے فوری طور پر اس طرح کے ناجائز قبضے کو ہٹاتے ہوئے ضروری صفائی کی جائے اور برسات کے پانی کی نکاسی کی تیزی کو یقینی بنایا جائے۔

عوام نے الزام لگایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سڑک کی توسیع کے لیے زمینیں حاصل کر کے مالکان کو معاوضہ دے دیا ہے، مگر اب تک ان زمینوں کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں نہیں لیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کام وہاں انجام دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پہلے نالوں کی مناسب تعمیر کی جائے تاکہ بارش کے پانی کا نکاسی نظام بہتر ہو۔
اس موقع پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شیو کمار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ برسات کا موسم شروع ہوچکا ہے، اس لیے فی الحال مکمل تعمیری کام ممکن نہیں، لیکن انہوں نے IRB کمپنی کے افسران کو ہدایت دی کہ فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں کہ بارش کا پانی گھروں میں داخل نہ ہو۔
نیشنل ہائی وے پروجیکٹ ڈائریکٹر شیو کمارکی ہدایت پراب بھٹکل کے مختلف علاقوں میں نالوں کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا ہے، فی الحال نور مسجد کے قریب کلورٹ کو نئے سرے سے نصب کرتے ہوئے پانی کی نکاسی کو درست کیا گیا ہے اور بقول الطاف کھروری کل اتوار کو پٹرول پمپ کے باہر موجود دو میں سے ایک کلورٹ جو بلاک ہے، اُس پر کام کیا جائے گا۔ اسی طرح اگلے چند دنوں کے اندر تمام نالوں کی صفائی کی جائے گی اور نیشنل ہائی وے پر پانی جمع ہونے کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔
جائزہ لینے والی ٹیم میں محکمہ نیشنل ہائی وے افسران کے ساتھ کنٹریکٹ کمپنی آئی آٓر بی کے افسران، بھٹکل میونسپل چیف آفسروینکٹیش ناوڈا، محکمہ روینو کے چاند پاشہ سمیت کافی دیگر اہلکار موجود تھے۔