نئی دہلی ، 8/فروری (ایس اونیوز/ایجنسی) وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے یکم فروری کو ملک کا بجٹ پیش کرتے ہوئے جس نئے انکم ٹیکس بل کا اعلان کیا تھا، اب اسے مرکزی کابینہ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ یہ بل چھ دہائیوں پرانے انکم ٹیکس ایکٹ کی جگہ لے گا اور ان تمام پرانی ترامیم اور دفعات کو ختم کرے گا جو اب قابل عمل نہیں ہیں۔ اس بل کا مقصد ٹیکس کے نظام کو مزید شفاف اور سادہ بنانا ہے، تاکہ لوگ اسے بغیر کسی ماہر کی مدد کے سمجھ سکیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس نئے بل سے مقدمہ بازی میں کمی آئے گی اور متنازعہ ٹیکس دعووں کا حل تیز تر ہو سکے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ نے جمعہ کو نئے بل کو منظوری دی۔ اب یہ نیا بل اگلے ہفتہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اسے پارلیمنٹ کی مالیات سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا۔ واضح ہو کہ پارلیمنٹ کے موجودہ بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 13 فروری کو ختم ہو رہا ہے۔ اجلاس 10 مارچ کو پھر شروع ہوگا اور 4 اپریل تک چلے گا۔
وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے جہاں ایک طرف اس بل کو ٹیکس دہندگان کے لیے فائدہ مند بتایا ہے وہیں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ صرف امیروں کو راحت دینے والا بل ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ یہ ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ٹی ایم سی نے اس بل کو عوام مخالف بتاتے ہوئے سڑکوں پر اتر کر مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے
واضح ہو کہ انکم ٹیکس قانون تقریباً 60 سال پہلے 1961 میں بنایا گیا تھا اور تب سے سماج میں لوگوں کے پیسے کمانے کے طریقے اور کمپنیوں کے کاروبار کرنے کے طریقے میں بہت ساری تبدیلی آئی ہے۔ وقت کے ساتھ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کیے گئے۔ ملک کے سماجی، اقتصادی تانے بانے میں تکنیکی ترقی اور تبدیلی کو دیکھتے ہوئے پرانے انکم ٹیکس قانون کو پوری طرح سے بدلنے کا مرکزی حکومت کے ذریعہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت کے مطابق نئے بل کے نافذ کرنے کا مقصد زبان اور عمل کے طریقے کو آسان بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا قانون موجودہ قانون سے 50 فیصد چھوٹا ہوگا۔ اس کا ایک ہدف قانونی تنازعہ اور مقدمہ بازی کو کم کرنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بل میں کچھ جرم کے لیے کم سزا کا نظم بھی ممکن ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد نیا ٹیکس نظام مالی سال 26-2025 سے نافذ ہوگا۔