کولکاتہ، 18/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)سی پی آئی ایم کے رہنما پرکاش کرات نے جمعہ کو کولکاتا میں جیوتی باسو سینٹر فار سوشل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی طاقتوں کے خلاف سیاسی اور نظریاتی جنگ ناگزیر ہے۔‘‘ اپنے اس بیان کے ذریعے پرکاش کرات نے واضح طور پر ہندوتوا بریگیڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پرکاش کرات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی جمہوریت مخالف طاقتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ہندوتوا کو ملک کا آفیشیل اصول بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی طاقتوں کے خلاف جنگ صرف انتخابی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نظریاتی اور سیاسی جنگ بھی ہے۔
پرکاش کرات نے اپنی تقریر کے دوران 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد منہدم کیے جانے کے بعد مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ جیوتی بسو کے ذریعہ دیے گئے بیان کا بھی تذکرہ کیا۔ تب جیوتی بسو نے بابری مسجد منہدم کرنے والی طاقتوں کو ’بربریت پر مبنی‘ کہا تھا۔ کرات کا کہنا ہے کہ ’’آج یہ طاقتیں اقتدار پر قابض ہو گئی ہیں اور ہندوتوا کو ملک کا حقیقی نظریہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر آج جیوتی بسو زندہ ہوتے تو وہ سیکولر و جمہوری طاقتوں کے ساتھ ان تاریک طاقتوں کے خلاف جنگ میں آگے ہوتے۔‘‘
پرکاش کرات نے جیوتی بسو کی قائدانہ صلاحیت اور ان کے تعاون کی بھی تعریف کی۔ خصوصاً مغربی بنگال میں بایاں محاذ اور جمہوری تحریک کو آگے بڑھانے میں ان کے تعاون کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جہاں تک مغربی بنگال کا سوال ہے، بسو اس بات کی مثال تھے کہ کس طرح کمیونسٹوں کو مزدور طبقہ کے مفادات کو آگے بڑھانے اور بایاں محاذ و جمہوری تحریک کو بنانے کے لیے اسمبلیوں و ریاستی حکومتوں میں کام کرنا چاہیے۔ بسو ہمارے ملک میں کمیونسٹ اور بایاں محاذ تحریک کے ذریعہ کی گئی ترقی کی علامت تھے۔‘‘