ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / نیشنل ووٹرز ڈے پر کانگریس کی تنقید، الیکشن کمیشن پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام

نیشنل ووٹرز ڈے پر کانگریس کی تنقید، الیکشن کمیشن پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام

Sat, 25 Jan 2025 16:59:32    S.O. News Service

نئی دہلی  ، 25/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس نے ہفتہ (25 جنوری) کو ’نیشنل ووٹرز ڈے‘ کے موقع پر الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کمیشن کی غیر جانبداری کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ موجودہ حالات میں کمیشن کا رویہ نہ صرف آئین کی توہین ہے بلکہ ملک کے ووٹرز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔

اس معاملے میں ایک طرف کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ الیکشن میشن کی تنظیمی ایماندار لگاتار زوال پذیر ہے اور یہ سنگین قومی فکر کا موضوع ہے، دوسری طرف کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ ہریانہ کے اور مہاراشٹر کے حالیہ اسمبلی انتخابات کو لے کر ظاہر کی گئی فکر پر کمیشن کا رخ حیرت انگیز طور پر تفریق سے بھرا رہا ہے۔

کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہم بھلے ہی نیشنل ووٹرس ڈے مناتے ہیں، لیکن گزشتہ 10 سالوں میں ہندوستان کے الیکشن کمیشن کی ایمانداری لگاتار زوال پذیر ہے، جو کہ قومی فکر کا موضوع ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارا الیکشن کمیشن اور ہماری پارلیمانی جمہوریت، وسیع اندیشوں کے باوجود دہائیوں سے غیر جانبدار، آزاد اور عالمی سطح پر مثالی بن گیا۔ عالمگیر بالغ حق رائے دہی کے حصول اور پنچایت و شہری مقامی بلدیات ہمارے پالیسی سازوں کے نظریہ کی علامت ہے۔‘‘

کھرگے کے مطابق جمہوری طریقہ کار کو قائم رکھنے میں لاپروائی انجانے میں آمریت کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہماری جمہوریت کو بچائے رکھنے اور اسے نشان زد کرنے والے آئینی اصولوں کو بنائے رکھنے کے لیے ہمارے اداروں کی آزادی کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ہی اپنے نظریات ظاہر کیے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’آج کے دن کو 2011 سے نیشنل ووٹرس ڈے کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ 75 سال پہلے آج ہی کے دن 25 جنوری 1950 کو الیکشن کمیشن وجود میں آیا تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس کے پہلے چیئرمین سوکمار سین تھے جنھوں نے ہماری انتخابی جمہوریت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ وہ واحد چیف الیکشن کمشنر تھے جو 8 سالوں تک اس عہدہ پر رہے۔‘‘

اس پوسٹ میں جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ ’’افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جوڑی نے الیکشن کمیشن کے پیشہ ور رویہ اور آزادی کے ساتھ سنگین طور سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ اس کے کچھ فیصلوں کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہریانہ اور مہاراشٹر کے حالیہ اسمبلی انتخابات کو لے کر ظاہر کی گئی فکروں پر الیکشن کمیشن کا رخ حیرت انگیز طور سے تفریق آمیز رہا ہے۔ کانگریس لیڈر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’آج خود کو خوب مبارکبادیاں دی جائیں گی، لیکن اس سے یہ بات سامنے نہیں آئے گی کہ آج جس طرح سے الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے، وہ آئین کا مذاق اور ووٹرس کی بے حرمتی ہے۔‘‘


Share: