ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ناگپور تشدد: 10 علاقوں میں کرفیو، 80 گرفتار، مسلم محلوں میں پولیس زیادتی کا الزام

ناگپور تشدد: 10 علاقوں میں کرفیو، 80 گرفتار، مسلم محلوں میں پولیس زیادتی کا الزام

Wed, 19 Mar 2025 11:13:15    S O News

ناگپور ، 19/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)اورنگ زیب کے مقبرے کو اورنگ آباد سے ہٹانے کے مطالبے پر وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی اشتعال انگیزی کے بعد ناگپور میں بھڑکنے والے تشدد کے بعد منگل کو حالات معمول پر آ گئے۔ شہر کے 10 سے زائد علاقوں میں کرفیو نافذ ہے، جبکہ حساس مقامات پر پولیس نے فلیگ مارچ کیا۔ اب تک کسی نئی پرتشدد واردات کی اطلاع نہیں ملی، تاہم پولیس نے اقلیتی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

حالات کے بگڑنے کیلئے پولیس  برابر کی ذمہ دار: ناگپور میں پیر (۱۷؍مارچ)کو ہونےوالے احتجاج کے دوران  بھگوا عناصر نے اورنگ زیب کی ہری چادر  میںلپٹی  ہوئی  علامتی قبر کو نذر آتش کیا ۔الزام ہے کہ مذکورہ علامتی قبل کو جس چادر میں لپیٹا گیاتھا اس پر  مبینہ طور پر کلمہ  طیبہ اور قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔شرپسندعناصر  نذرآتش کرتے  وقت اسے  لاتوں اور جوتوں  سےروند رہے تھے جس کا ویڈیو وائرل ہوگیا۔ اقلیتوں  نے  اس پر  اعتراض کرتے ہوئے خاطیوں  کے خلاف کارروائی کی مانگ کی پولیس اسے نظر انداز کیا اورکارروائی کا مطالبہ کرنے کیلئے اکٹھی ہونےوالی بھیڑ کو ہی بھگانے کی کوشش کی۔ اس دوران افراتفری مچی اور  پھربھیڑ  اور پولیس  کے درمیان   جھڑپ جیسی کیفیت پیدا ہوگئی۔ پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ اس تشدد میں کئی پولیس اہلکار اور متعدد عام شہری زخمی ہوئے ۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ اگر پولیس نے اگر بھگو عناصر کے خلاف بروقت کارروائی کی ہوتی اور انہیں قرآنی آیات کی بے حرمتی سے روکتی تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

ہنسا پوری میں دیر رات تشدد پھوٹ پڑا: اس تشدد کے بعد دیر رات ہنساپوری علاقے میں  بھی تشدد اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔ اطلاعات کے مطابق  نقاب پوش شرپسندوں نے گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور انہیں آگ لگا دی۔ حالات کو مزید بگڑنے سے  روکنےکیلئے   انتظامیہ نے ۱۰؍حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا ہے


Share: