منڈگوڈ ،5/ اگست (ایس او نیوز) منڈگوڈ تعلقہ کے کریگن کوپّا پالی ٹیکنیک کالج کے پاس بس اسٹاپ کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ نے راستہ روکو احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا مگر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کو پولیس اسٹیشن میں بلا کر ٹرانسپورٹ افسران کے ساتھ بات چیت کراتے ہوئے مسئلہ حل کر دیا ۔
بتایا گیا ہے کہ طلبہ کی جانب سے سرکاری پالی ٹیکنیک کالج کے پاس سرسی - ہبلی روٹ کی بسوں کے لئے اسٹاپ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ اس ضمن میں افسران کو بارہا یاد داشتیں پیش کرنے کے باوجود کوئی بھی اقدام نہیں کیا گیا تھا ۔ اس وجہ سے ناراض طلبہ نے کالج کی کلاسوں میں حاضری نہ دیتے ہوئے باہر آ کر راستہ روکو احتجاج پر اتر آئے ۔
طلبہ کی طرف سے احتجاج شروع کیے جانے کی خبر ملتے ہی سرکل پولیس انسپکٹر رنگناتھ نیلمناور نے موقع پر پہنچ کر طلبہ کو پولیس اسٹیشن آنے پر راضی کر لیا ۔ اسی کے ساتھ سی پی آئی نے کے ایس آر ٹی سی منڈگوڈ ڈپو کے منیجر راج شیکھر دھنیال کو بھی پولیس اسٹیشن میں بلایا ۔ طلبہ نے بس ڈپو منیجر کے سامنے سخت ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ ڈپلومہ کالج کے پاس بس روکنے کے لئے دسیوں بار میمورنڈم دینے کے بعد بھی کوئی حل نہیں نکل رہا ہے ۔ افسران کی طرف سے تحریری طور پر بس روکنے کا تیقن دینے کے بعد بھی سرسی ہبلی روٹ پر چلنے والی بسوں کے ڈرائیور اس مقام پر بس نہیں روک رہے ہیں ۔
اس موقع پر طلبہ نے ڈپو منیجر کے سامنے یہ شکایت بھی رکھی کہ بسوں کے کنڈکٹرس اکثر طلبہ کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں ، ناشائستہ زبان میں انہیں ڈانٹتے اور کوستے ہیں ۔
کے ایس آر ٹی سی بس ڈپو منیجر نے بتایا کہ راج ہنس بسوں کو چھوڑ کر بقیہ تمام بس کے ڈرائیوروں کو اس مقام پر بس روکنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ اس کے بعد بھی ان بسوں کے ڈرائیور اگر وہاں بس نہیں روکتے ہیں تو ایسے بسوں کے نمبر نوٹ کرکے ہمیں بتائیں ۔ ایسے ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
اس طرح دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا گیا ۔