ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’’مڈل کلاس سکڑ رہا ہے، سنگین بحران‘‘، جے رام رمیش کی پریس کانفرنس، معیشت پر کیجریوال کا ایجنڈہ پیش

’’مڈل کلاس سکڑ رہا ہے، سنگین بحران‘‘، جے رام رمیش کی پریس کانفرنس، معیشت پر کیجریوال کا ایجنڈہ پیش

Thu, 23 Jan 2025 10:49:16    S.O. News Service

نئی دہلی ، 23/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)بی جے پی حکومت نے گزشتہ ۱۰ سالوں میں نہ صرف ملک کی معیشت کو کمزور کیا ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا اثر مڈل کلاس پر پڑا ہے، جو ہمیشہ سے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان جے رام رمیش نے اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مڈل کلاس تیزی سے سکڑ رہا ہے، اور ملک کو بے روزگاری کے ایک شدید بحران کا سامنا ہے، لیکن مودی حکومت اس مسئلے کی شدت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے گزشتہ دہائی میں مڈل کلاس کو کسی بھی طرح کی مالی یا معاشی سہولت فراہم نہیں کی، بلکہ ان کی بچت، آمدنی اور مستقبل کے خوابوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آج مڈل کلاس بے یار و مددگار ہے، اور مودی حکومت کے پاس اسے سہارا دینے یا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی موجود نہیں۔

 واضح رہے کہ معروف غیر سرکاری تنظیم ’ پیوپل ریسرچ آن انڈیاز کنزیومر اکنامی ‘ کے مطابق   مڈل کلاس ملک کا وہ طبقہ ہوتا ہے جس کی سالانہ آمدنی ۵؍ لاکھ روپے سے ۳۰؍ لاکھ روپے کےدرمیان ہے۔ یہ طبقہ ملک کی معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہم بلکہ ریڑھ کی ہڈی کہلاتا ہے کیوں کہ اسی کی وجہ سے پورے ملک کا نظام اور کاروبار چلتا ہے۔ اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے ہی معیشت کا پہیہ گھومتا ہے اور ماضی میں تقریباً ہر حکومت نے مڈل کلاس کو دھیان میں رکھ کر ہی اپنی معاشی پالیسیاں بنائی ہیں اور بجٹ بھی انہی کے حساب سے تیار کی جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مڈل کلاس ہی حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ ایسے طبقے کی اگر آمدنی متاثر ہو رہی ہے اور وہ مسلسل سکڑ رہا ہے تو یہ نہایت قابل تشویش ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اسی جانب توجہ دلائی اور بتایا کہ اس  وقت مہنگائی ، بے روزگاری اور روپے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے مڈل کلاس پر بہت زیادہ دبائو پڑ رہا ہے۔

جے رام رمیش کے مطابق اس مرتبہ روپے کی قدر میں گراوٹ قابل تشویش ہے اور بڑھتی بے روزگاری  اور مہنگائی اس کا اہم سبب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ مڈل کلاس کی دگرگوں حالت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چھوٹی گاڑیوں کا مارکیٹ بھی سکڑ رہا ہے۔ پہلے ۱۰؍ لاکھ روپے سے کم والی گاڑیوں کا مارکیٹ پر دبدبہ رہتا تھا ۔ یہ کل کار مارکیٹ کا ۷۳؍ فیصد تھی لیکن اب صرف ۴۶؍ فیصد رہ گئی ہے۔ جو بھی کاریں فروخت ہو رہی ہیں وہ لگژری کاریں ہیں اور اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ملک میں معاشی نابرابری بھی بڑھ رہی ہے۔


Share: