منگلورو 7 / نومبر (ایس او نیوز) منگلورو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایم ایل سی ہری پرساد نے مطالبہ کیا کہ قومی ترانہ 'جن گن من' کی توہین کرنے والے کینرا ایم پی وشویشورا ہیگڑے کاگیری کے خلاف کیس درج کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمان کاگیری کا یہ کہنا کہ جن گن من قومی ترانہ ہے ہی نہیں، قومی ترانے اور اسے لکھنے والے نوبل انعام یافتہ شاعر رابندرا ناتھ ٹیگور کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے ۔ اس لئے کاگیری کے خلاف دیش سے غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے ۔ بی جے پی والوں نے مہاتما گاندھی کو قتل کرنے کے بعد قومی ثقافت کی نمائندگی کرنے والے رابندرا ناتھ ٹیگور پر حملہ کرنا شروع کیا ہے۔

خیال رہے کہ کینرا ایم پی کاگیری نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جن گن من کو قومی ترانہ ماننے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وندے ماترم کو قومی ترانہ ہونا چاہیے تھا ۔ اسی پس منظر میں ہری پرساد نے کاگیری کے خلاف تیکھے تیور اپناتے ہوئے اس بیان کے لئے کاگیری پر دیش سے غداری کا کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ریاست میں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کے موضوع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے ہری پرساد نے کہا کہ آر ایس ایس کی حقیقت حال ہی میں پڑوسی ریاست کیرالہ میں پیش آئے ہوئے واقعات سے ظاہر ہوتی ہے جہاں لڑکوں کے جنسی زیادتیوں کے معاملے ہوئے ہیں ۔ اس سے پہلے کشمیر کے کٹواہ میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی ۔ اس معاملے کے ملزمین کی حمایت میں بی جے پی کے وزراء سامنے آئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار سالہ تاریخ رکھنے والے سناتن دھرم کو آر ایس ایس سے ہی خطرہ ہے ۔
ہری پرساد نے بی جے پی پر مزید وار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل طالبان کی مخالفت کرنے والے ہی اب ان کو یہاں مدعو کر رہے ہیں ۔ انہیں دو ہزار کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔ یہ سب کام ہم سے نہیں ہونے والا ۔ ہم سیکولرازم، تکثیریت اور دستور میں یقین رکھنے والے لوگ ہیں ۔