منگلورو، 12/ نومبر (ایس او نیوز) کانگریس مائناریٹی سیل کے لیڈروں نے مویشی فروخت کرنے کے الزام میں ایک خاتون کا گھر ضبط کرکے اس کو اپنے بچوں سمیت گھر سے باہر نکالنے والے پولیس سب انسپکٹر کے خلاف کڑی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہر کے کانگریس بھون میں ضلع مائناریٹی سیل کی میٹنگ کے بعد اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اقلیتی سیل کے ضلعی صدر شاہ الحمید نے کہا کہ مویشی فروخت کرنے کے الزام میں گھروں کو ضبط کرنے کا کالا قانون پولیس والوں کی طرف سے دکشن کنڑا میں پہلی مرتبہ لاگو کیا جا رہا ہے۔ اس سے ریاستی حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے۔
شاہ الحمید نے سوال کیا کہ زہرہ نامی جس خاتون کا گھر ۔مویشی فروخت کرنے کے الزام میں ضبط کیا گیاتھا اور میں اسٹنٹ کمشنر نے متعقہ گھر کو واپس زہرہ کو لوٹانے کا حکم دیا تھا، لیکن مویشی فروخت کرنے والے نوین کے خلاف کسی طرح کی کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ؟ دکشن کنڑا میں جانوروں کو رفت کرنے کے معاملے میں سنگھ پریوار کے کتنے ہی لوگ شامل پائے گئے ہیں ۔ ان کے گھروں کو پولیس سیل کیوں نہیں کر رہی ہے ؟
پولیس کا یہ رویہ قابل مذمت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر خوف و ہراس پیدا ہوا ہے ۔ دودھ کا کاروبار کرکے زندگی گزارنے والے مویشیوں کو فروخت نہ کرنے اور رفت نہ کرنے جیسی پابندیاں لگاتے ہوئے غیر اعلان کردہ ایمرجنسی کی صورت حال پیدا کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گئو رکھشا اور گئو ہتھیا سے متعلقہ قوانین کی جانکاری دینے کے لئے پولیس والے مسجدوں میں غیر مجاز طریقے سے داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس قانون کے بارے میں مسجدوں میں جا کر صرف مسلمانوں کو ہی جانکاری دینا کیوں ضروری ہے ؟ کیا مسجدیں جانوروں کے کاروبار کے مراکز ہیں ؟
شاہ الحمید نے کہا کہ ایک ہی طبقے کو نشانہ بنا کر پولیس کی طرف سے انہیں جرائم پیشہ کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ چند دن پہلے پتور میں جانور رفت کر رہی گاڑی کو پولیس کی جانب سے روکنے اور اس کے ڈرائیور کے پیر میں گولی مارنے کا الزام ہے ۔ اس معاملے میں تفتیش ہونی چاہیے۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ نورالدین نے کہا کہ گئو ہتھیا پر پابندی والے ایکٹ کے پردے میں دکشن کنڑا کی پولیس نے جو غیر قانونی حرکتیں کی ہیں اس کے خلاف کڑی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مائناریٹی سیل کے ضلع صدر شاہ الحمید کی قیادت میں ایک وفد ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ، مغربی ژون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو میمورنڈم دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ جلد ہی ایک وفد وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرے گا اور گئو ہتھیا مخالف قانون واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں میمورنڈم پیش کرے گا۔