مینگلور8/ نومبر (ایس او نیوز) غیرقانونی طور پر ذبح کرنے کے لئے گائیں اسمگل کرنے کے الزام میں دھرمستھلا پولیس نے ملزم کا گھر ضبط کرنے کی جو کارروائی کی تھی اس میں آج ایک اہم پیش رفت ہوئی جس کے تحت پُتّور کی اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) اِسٹیلا ورگیز نے پولیس کو ضبطی ختم کرکے اس گھر کو اس کی مالکن زہرا کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
بیلتنگڈی تعلقہ سی پی ایم سکریٹری اور ایڈوکیٹ بی ایم بھٹ کی طرف سے جاری کی گئی اطلاع کے مطابق انہوں نے پتور اے سی عدالت کے سامنے ایک اپیل دائر کی تھی جس میں صرف مویشیوں کی فروخت کے لیے زہرا کے گھر پر قبضہ کرنے کی پولیس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال کیا گیا تھا۔
اس کیس کی جانچ کرنے کے بعد اے سی اسٹیلا ورگیس نے پولیس کو ہدایت دی کہ ضبط شدہ مکان پر سے قبضہ ہٹایا جائے۔
خیال رہے کہ 4 نومبر کو دھرمستھلا پولیس نے مویشیوں کی غیر قانونی رفت کے معاملے کا پتہ لگایا تھا اور نقل و حمل میں ملوث افراد کے خلاف شکایت درج کی تھی ۔ اس کے بعد پولیس نے پُتورو سے تعلق رکھنے والی زہرا کے خلاف مبینہ طور پر ان کو مویشی فروخت کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا تھا۔
اپنی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے پولیس نے الزام لگایا تھا کہ اس خاتون کی رہائش گاہ میں ایک ذبح خانہ چل رہا تھا اور اس نے مویشی فروخت کیے تھے۔
6 نومبر کو پولیس نے زہرا کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور وضاحت کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر اس کی والدہ سارما کو نوٹس بھیجا اور اسی دن گھر کو سیل کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بشمول دو اسکول جانے والی بیٹیوں اور ایک بیٹے کے تمام اہل خانہ بے گھر ہوگئے۔
اس کے بعد ایڈوکیٹ بی ایم بھٹ نے بیلتنگڈی تحصیلدار کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مکان پر غیرقانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے پتور اسسٹنٹ کمشنر کو ایک درخواست بھی پیش کی جس کے بعد اے سی اسٹیلا ورگیس نے پولیس کی طرف سے ضبط کیے گئے مکان کو چھوڑنے کا حکم دیا۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زہرہ کا خاندان ڈیری فارمنگ کرتا ہے اور اس نے ایک گائے اور دو بچھڑے بیچے تھے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ دودھ تیار کرنے والوں اور کسانوں میں مویشیوں کی خرید و فروخت عام ہے اور بیچنے والوں کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ خریدار جانوروں کو کس کام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
ایڈوکیٹ بی ایم بھٹ نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی نوٹس یا وضاحت کا موقع دئے بغیر مکان پر قبضہ کرنا غیر قانونی عمل ہے ۔ خاص طور پر جب عورت اور اس کے بچے وہاں مقیم ہوں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف آئی آر میں زہرہ کی جائیداد پر ذبح ہونے کے کسی ثبوت کا ذکر نہیں ہے اور دلیل دی کہ گائے فروخت کرنا جائیداد کو ضبط کرنے لائق جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مویشیوں کی فروخت کو ایسا جرم سمجھا جاتا ہے تو تمام کسانوں کی کھیتی باڑی کو ضبط کرنا ہوگا ۔ انہوں نے وضاحت کے لئے وقت دیے بغیر اسی دن نوٹس جاری کرنے اور رہائش گاہ پر قبضہ کرنے کے لئے پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اور نوٹ کیا کہ پتور اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے ذریعہ اب متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا۔