مینگلورو 3 / ستمبر (ایس او نیوز) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے دھرمستھلا میں متعدد لاشوں کی تدفین سے جڑے تنازعہ کے ارد گرد فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے مشتبہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کی ابتدائی جانچ شروع کی ہے ۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ تحقیقات فارن ایکسچینج منیجمنٹ ایکٹ (FEMA) کے تحت کی جا رہی ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسی ان افراد اور اداروں کے دستاویزات اور لین دین پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جن میں غیر سرکاری تنظیمیں بھی شامل ہیں - ان پر دکشن کنڑا ضلع میں مندر کے قصبے میں تنازعہ پیدا کرنے کے لیے غیر ملکی فنڈز کا استعمال کرنے کا الزام ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی فنڈنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی یا فنڈز کا غلط استعمال ثابت ہوا تو اس ضمن میں مزید کارروائی کی جائے گی ۔
کرناٹک بی جے پی کی جانب سے "دھرمستھلا چلو" ریلی کا انعقاد کرنے کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے بیچ یہ تحقیقات شروع ہوئی ہے جبکہ بی جے پی نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جسے اس نے دھرمستھلا کے خلاف "سازش اور گندی مہم" قرار دیتے ہوئے کانگریس حکومت پر اس معاملے کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا ہے ۔
خیال رہے کہ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب دھرمستھلا کے ایک سابق صفائی کارکن چنّیا نے الزام لگایا کہ اسے 1995 سے 2014 تک ملازمت کے دوران متعدد لاشوں کو دفن کرنے پر مجبور کیا گیاتھا جن میں خواتین اور نابالغوں کی مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے نشانات دیکھے گئے تھے ۔ ریاستی حکومت نے الزامات کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی ۔ اور گواہی کے لئے سامنے آئے ہوئے چنّیا کی نشاندہی پر تحقیقاتی ٹیم نے نیتراوتی ندی کے کنارے کئی مقامات پر کھدائی کی ۔ صرف دو مقامات پر انسانی ڈھانچوں کے باقیات بازیافت ہوئے جس نے عوامی دلچسپی اور جانچ کو مزید تیز کر دیا تھا، مگر اپنا الزام ثابت کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ایس آئی ٹی گواہ بننے والے چنّیا کو حلف نامے کے تحت جھوٹی گواہی دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ۔
اس معاملے پر کرناٹک کے وزیر پرینکا کھرگے نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دھرمستھلا معاملے میں سرگرم رہنے والے گریش مٹناور اور مہیش شیٹی تھیماروڈی نامی دو اکٹویسٹس پر الزام لگایا کہ یہ دونوں آر ایس ایس اور بی جے پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز پھیلانے کے الزام میں ان دونوں کارکنوں کو الگ الگ پولیس مقدمات کا سامنا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورعوامی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کے امکانات ہیں ۔
اب اس معاملے میں ای ڈی جیسی وفاقی ایجنسیوں کی مداخلت ایک بہت زیادہ چارج شدہ فرقہ وارانہ صف بندی کے ساتھ ایک اہم اضافہ کا اشارہ ہے ۔ جیسے جیسے قانونی جانچ پڑتال اور سیاسی الزام تراشی کا کھیل تیز ہوتا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ دھرمستھلا کا تنازعہ ایک نقطہ اشتعال بنتا جا رہا ہے ۔