منگلورو، 16 / نومبر (ایس او نیوز) شہر کے مضافات کمپالا میں ایک مکان کے کمپاونڈ سے خون میں لت پت حالت میں دیانندا گٹّی (60 سال) کی جولاش کے بازیافت ہوئی تھی اس کے بارے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے خلاصہ ہوا ہے کہ اس کی موت بہت سارے کتوں کے حملے کے نتیجہ میں واقع ہوئی تھی ۔
معلوم ہوا ہے کہ دیانندا کی موت کے بعد بلدیہ کی طرف سے اس علاقے میں جن کتوں کو پکڑا گیا ہے اس میں وہ کتا بھی شامل ہے جس نے دیانندا پر حملہ کیا تھا ۔
خیال رہے کہ زخموں سے چور اور خون میں لت پت دیانندا کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ ایک قتل کا معاملہ ہے ۔ اس کے بعد فارنسک ماہرین کی ٹیم نے جائے وقوع پہنچ کر معائنہ کیا جہاں دیانندا کا ایک دیدہ نکل کر باہر زمین پر پڑا ہوا تھا اور سر، چہرے، ہاتھوں، ران اور پیر پر دانتوں سے کاٹنے کے زخم موجود تھے ۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ کتوں کے حملے کا نتیجہ کا ہے ۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خلاصہ کیا گیا ہے کہ لاش پر پائے جانے والے زخم مختلف کتوں کے ذریعے کاٹے جانے کی نشان دہی کرتے ہیں ۔
سمجھا جاتا ہے کہ کتوں کے حملے میں فوت ہونے والا دیانندا پہلے کسی ایک کتے پر گرا ہوگا جس نے اس کے چہرے پر اور دیگر کتوں نے اس کے جسم کے مختلف اعضاء پر حملہ کیا ہوگا ۔ زخموں سے چور دیانندا نے کسی طرح اپنے آپ کو گھسیٹتے ہوئے سڑک پار کی ہوگی اور پھر اس کمپاونڈ میں داخل ہوا ہوگا جہاں اس نے دم توڑ دیا تھا ۔
مقامی لوگوں کی طرف سے معلومات فراہم کیے جانے پر میونسپل کارپوریشن کے عملے نے اس علاقے میں اپنے منھ اور چہرے پر خون کے نشانات کے ساتھ گھومتے ہوئے ایک آوارہ کتے کو پکڑ لیا اور اسے اینیمل کیئر ٹرسٹ کے حوالے کیا مگر وہ کتا وہاں پر دوسرے دن مر گیا ۔ افسران نے اس مردہ کتے کے سیمپلس حاصل کیے اور ریبیز کی جانچ کے لئے لیباریٹری کو بھیج دئے ۔
پتہ چلا ہے کہ کرناٹکا ڈیولپمنٹ پروگرام کی سہ ماہی جائزہ میٹنگ اس موضوع پر ایم ایل سی آئیوان ڈیسوزا نے کہا کہ اس واقعہ میں فوت شدہ شخص کے اہل خانہ کو حکومت کی طرف سے معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے ۔ اینیمل ہسبنڈری کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارون کمار شیٹی نے بتایا کہ کتے کے کاٹنے پر متاثرہ فرد کو پانچ ہزار روپے اور اس کے نتیجے میں موت واقع ہونے پر پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کے لئے رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت راج ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سرکیولر جاری ہوا ہے ۔ ضلع ڈپٹی کمشنر ایچ وی درشن نے بتایا کہ اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں اربن ڈیولپمنٹ سیکریٹری سے بات چیت کرکے ضروری کارروائی کی جائے گی ۔
ایم سی سی کے کمشنر روی چندرا نائیک نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی تازہ ہدایات کی روشنی میں عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے لئے شہری بلدی اداروں کو 'ڈاگ شیلٹرس' قائم کرنا ہے اور انہیں پالنے پوسنے کا انتظام کرنا ہے ۔ ایم سی سی کو شیلٹرس تعمیر کرنے کے لئے ضروری جگہ تلاش کرنے میں وقت لگے گا ۔ یہ کام ایک کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔