ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر ملکارجن کھرگے کی فکر مندی،کہا—نوجوان روزگار کو ترس رہے ہیں

ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر ملکارجن کھرگے کی فکر مندی،کہا—نوجوان روزگار کو ترس رہے ہیں

Wed, 25 Feb 2026 11:08:19    S O News

نئی دہلی ، 25/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب کو ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کے دوران ہوئے احتجاج کے سلسلے میں منگل (24 فروری) کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس پر راہل گاندھی کے بعد کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوجوان آج نوکری کے لیے تڑپ رہے ہیں اور ملک کا ماحول اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ اس کی وجہ سے مودی جی کے خلاف لوگوں میں شدید غصہ ہے۔‘‘

ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ’’ٹرمپ کے سامنے انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے۔ ناک رگڑ کر ان کی تمام شرطوں کو مان لیا جس کی وجہ سے پورا ملک شرمندہ ہو گیا۔ جو کام ہمارے کسانوں کی بھلائی اور مدد کے لیے کیا جانا چاہیے تھا، اس کے بجائے کسانوں کے نقصان پر بات چیت کی گئی۔ اس سے یہ صاف ہو گیا کہ لوگ سمجھتے تھے کہ مودی جی ملک کے مفاد میں ٹرمپ سے بات کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ٹرمپ ہمیں غلام بنا رہا ہے اور ہمیں بندھوا مزدور بنانے کی سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ کام مودی جی کر رہے ہیں۔‘‘

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کے مطابق کانگریس ڈرنے والی نہیں ہے اور نہ ہی ڈرپوک ہے۔ مودی صاحب خود ڈرپوک ہیں۔ ڈر کی وجہ سے وہ پارلیمنٹ میں آ کر اپنی پالیسیوں کا بچاؤ نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے نوجوان لیڈران کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ نہیں چلے گا، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے ملک کی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے اور ملک کو گروی رکھنے والے لوگوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ معاملہ گزشتہ ہفتے بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران پیش آیا تھا، جب یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے بغیر شرٹ احتجاج کیا اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں، بے روزگاری اور مصنوعی ذہانت سے متعلق امور پر نعرے بازی کی۔ پروگرام کے دوران احتجاج کے بعد پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔


Share: