ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہاراشٹرامیں خودساختہ گئو رکھشکوں کے خلاف قصائیوں کا زبردست احتجاج؛ حکومت قصائیوں کے آگے جھکنےپرمجبور

مہاراشٹرامیں خودساختہ گئو رکھشکوں کے خلاف قصائیوں کا زبردست احتجاج؛ حکومت قصائیوں کے آگے جھکنےپرمجبور

Mon, 11 Aug 2025 01:33:58    S O News
مہاراشٹرامیں خودساختہ گئو رکھشکوں کے خلاف قصائیوں کا زبردست احتجاج؛ حکومت قصائیوں کے آگے جھکنےپرمجبور

ممبئی 10 اگست (ایس او نیوز): خودساختہ گورکھشکوں کی بڑھتی ہوئی ہراسانی کے خلاف مہاراشٹرا میں قریشی برادری کے 10 لاکھ سے زائد قصائی 22 جولائی سے احتجاج کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ضلع سولاپور کے تعلقہ اَکلوج اور سانگولا کی مویشی منڈیاں مکمل طور پر بند ہیں اور ناراض کسانوں نے  کھیتی باڑی میں استعمال نہ ہونے والی مویشیوں کو سڑکوں پرچھوڑنا شروع کر دیا ہے۔ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹرا سرکار قصائیوں کے آگے جھکنے پر مجبور ہوگئی ہے اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ (نام نہاد) ’’گورکھشکوں کو‘‘ مویشی لے جانے والی گاڑیوں کی جانچ کرنے سے روکا جائے۔

آل انڈیا جمعیت القریش اور مویشی تاجروں کی کمیٹی کے رکن، اپسر قریشی نے بتایا کہ "درست کاغذات موجود ہونے کے باوجود ہمیں خودساختہ گورکھشکوں کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ہم قانونی طور پر کاروبار کرنے کے باوجود ہمیں کسی قسم کا تحفظ نہیں مل رہا ہے۔ ان گورکھشکوں کی بڑھتی ہوئی ہراسانی کو دیکھتے ہوئے بالاخر ہم نے اپنا کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھار مقامی پولیس بھی مہاراشٹر آرگنائزڈ کرائم کنٹرول ایکٹ (ایم کوکا) کی سخت دفعات ہمارے خلاف نافذ کر دیتی ہے۔ عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں آنے کے باوجود مویشیوں کی رہائی کے لیے ہم سے رشوت طلب کی جاتی ہے۔ ہماری تنظیم کے اراکین جب مویشی لے جاتے ہیں تو خودساختہ گورکھشک شاہراہوں پر گاڑیاں روک لیتے ہیں۔ ضروری کاغذات ہونے کے باوجود ہمارے مویشی ضبط کر لیے جاتے ہیں اور جان بوجھ کر ہماری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

آپسر قریشی نے بتایا کہ ریاست بھر میں پھیلی 25 لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والی قریشی برادری کا ایک بڑا حصہ مویشیوں اور گوشت کے کاروبار سے منسلک ہے۔ 2015 میں دیویندر فڈنویس کی قیادت والی بی جے پی-شیوسینا حکومت نے مہاراشٹر اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1976 میں ترمیم کر کے گائے کے ذبح پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد بیل اور کھیتوں میں استعمال نہ ہونے والی مویشیوں کی تجارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس ایک اقدام نے پانچ لاکھ سے زائد روایتی قصابوں کو کاروبار سے باہر کر دیا۔

آپسر قریشی کے مطابق اگرچہ آئین روزگار کا حق فراہم کرتا ہے، لیکن موجودہ ماحول میں ہمیں اس کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے جبکہ  کابینہ کے سینئر وزراء  مویشی تاجروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ مویشی کے کاروبار سے وابستہ تقریباً تمام افراد اپنے مذہب کی وجہ سے آسان ہدف بن رہے ہیں اور ہماری برادری کے لیے کسی قسم کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

قصائیوں  کی ہڑتال نے ذبح کے لیے مویشی فروخت کرنے والی منڈیوں کی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ تعلقہ اَکلوج کی مویشی منڈی میں ہر پیر کو کسان اپنے غیر پیداواری بیل فروخت کے لیے لاتے تھے۔مگر احتجاج کے چلتے یہ منڈی اب بند ہے۔

منڈی کے سکریٹری راجندر کاکڈے کے مطابق ہر پیر کو منڈی میں تقریباً 50 لاکھ روپے کا کاروبار ہوتا تھا، اور ریاست کے کونے کونے سے تقریباً 400 تا 500 مویشی فروخت کے لیے یہاں لائے جاتے تھے۔ ہڑتال کے باعث منڈی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے اور کسانوں کے پاس اپنے مویشی سڑکوں پر چھوڑنے کے علاوہ  دوسرا کوئی چارہ نہیں  ہے۔ اسی طرح سانگولا کی منڈی بھی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔

قصائیوں کے اس احتجاج کا مہاراشٹرا میں بے حد شدید معاشی اثر پڑا ہے۔ اور احتجاج کی وجہ سے مویشیوں اور گوشت کی ریاستی تجارت، جس کا تخمینہ تقریباً تین سو کروڑ روپے ماہانہ ہے، بڑی حد تک معطل ہو چکی ہے۔ گوا سمیت دیگر ریاستوں میں بھی  گوشت کی فراہمی  بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ گوا میں روزانہ بیس ٹن کی معمول کی سپلائی گھٹ کر محض دو سے پانچ ٹن رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں گوشت کی قیمتوں میں بیس فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ہڈی والے گوشت کی قیمت چار سو سے چار سو بیس روپے فی کلو، جب کہ بغیر ہڈی والے گوشت کی قیمت پانچ سو روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔قصائی  برادری کے نمائندوں کے مطابق مجموعی اقتصادی نقصان ماہانہ چار سو ساٹھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

سولاپور کے اکلوج کی منڈی، جہاں ہر پیر کو تقریباً پچاس لاکھ روپے کا کاروبار ہوتا تھا اور چار سے پانچ سو مویشی فروخت کے لیے لائے جاتے تھے، اب سنسان ہے۔جس کی وجہ سے کسان مجبور ہو کر اپنی غیر استعمال شدہ مویشیوں کو سڑکوں پر چھوڑنے لگے ہیں، کیونکہ ان کے پاس انہیں بیچنے یا رکھنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا ہے۔

اس بحران نے ریاستی حکومت کو بھی متحرک کر دیا ہے۔جس کو دیکھتے ہوئے  نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ گورکھشک گروپوں کو مویشی بردار گاڑیوں کی جانچ سے روکا جائے۔ تاہم قریشی برادری کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں قانونی تحفظ کی واضح ضمانت اور ہراسانی کے خاتمے کی یقین دہانی نہیں ملتی، احتجاج اور بائیکاٹ جاری رہے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا آئینی حقِ روزگار سلب ہو رہا ہے اور مذہبی شناخت کے باعث وہ آسان ہدف بن گئے ہیں، جن کے لیے نہ پولیس اور نہ ہی حکومت کوئی مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہے۔

Click here for report in English


Share: