ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنداپور میں بنگلورو کے تین طلبہ بحرِ عرب میں ڈوب کر ہلاک؛ ایک شدید زخمی حالت میں منی پال اسپتال منتقل

کنداپور میں بنگلورو کے تین طلبہ بحرِ عرب میں ڈوب کر ہلاک؛ ایک شدید زخمی حالت میں منی پال اسپتال منتقل

Sun, 07 Sep 2025 19:11:59    S O News
کنداپور میں بنگلورو کے تین طلبہ بحرِ عرب میں ڈوب کر ہلاک؛ ایک شدید زخمی حالت میں منی پال اسپتال منتقل

کنداپور7/ستمبر (ایس او نیوز): اتوار کی دوپہر تفریحی سفر ایک المیہ میں تبدیل ہوگیا، جب بنگلورو سے آئے تین طلبہ کنداپور تعلقہ کے گوپاڈی ساحل پر بحرِ عرب میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ ایک اور طالب علم، جس کی شناخت نیروپ (20) کے طور پر ہوئی ہے، کو مقامی لوگوں نے زندہ تو بچالیا لیکن اس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے اور اسے فوری طور پر منی پال اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے طلبہ کی شناخت گوتھم (19)، لوکیش (19) اور آشیش (18) کے طور پر کی گئی ہے۔ مقامی لوگوں نے ان کی لاشیں سمندر سے نکال کر ساحل پر پہنچائیں۔ اسی دوران نیروپ کو بھی شدید زخمی حالت میں بچالیا گیا۔ واقعہ کے وقت دیگر طلبہ — راہول، دھنوش، نِتن، کوشل اور انیش — محفوظ طور پر بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

ذرائع کے مطابق، بنگلورو کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم 10 طلبہ کا گروپ جمعہ کی شام  ٹرین کے ذریعے کنداپور پہنچا تھا تاکہ ویک اینڈ کی چھٹیاں یہاں گزار سکیں۔ ہفتہ کے دن انہوں نے سری کرشن مٹھ اور ملپے بیچ جیسے مشہور سیاحتی مقامات کی سیر کی اور پھر کنداپور تعلقہ کے کمباشی  نامی مقام پر  ایک نجی لاج میں قیام کیا۔

اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے سات بجے چار تا پانچ طلبہ موبائل لوکیشن کا استعمال کرتے ہوئے پیدل گوپاڈی گاؤں کے چرکی کڈو بیچ پر پہنچے اور بعد میں لاج میں ٹھہرے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بھی وہاں بلا لیا۔ ایک طالب علم جس کا نام انجن بتایا گیا ہے،  سمندر کے ساحل پر ہی رہا جبکہ باقی نو طلبہ بحرِ عرب میں نہانے اور کھیل کود کے لئے اتر گئے۔

دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے طلبہ کی چیخ و پکار سنتے ہی  مقامی ماہی گیر اُمیش پُجاری فوری طور پر ساحل کی طرف دوڑتے ہوئے  دو طلبہ کو بچانے میں کامیاب ہوگیا، جن میں نیروپ بھی شامل ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کی مزید کوششوں کے باوجود تین طلبہ تیز لہروں کی نذر ہوگئے۔

علاقہ کے  مکینوں نے بتایا کہ انہوں نے طلبہ کو سمندر کی خطرناک موجوں کے بارے میں پہلے ہی خبردار کیا تھا، لیکن طلبہ نے اس پر دھیان نہیں دیا جس کے نتیجہ میں یہ سانحہ پیش آیا۔

بعد میں ریسکیو آپریشن ماہر غوطہ خور ایشور ملپے کی ٹیم اور مقامی رضاکاروں نے انجام دیا، جبکہ فائر بریگیڈ اور پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے۔

ہلاک شدہ طلبہ کی لاشوں کو پہلے کنداپور کے سرکاری مردہ خانہ میں رکھا گیا، جس کے بعد پوسٹ مارٹم کے لئے منی پال اسپتال منتقل کیا گیا۔ دریں اثنا، کنداپور پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔


Share: