
تھریسور 12/ اگست (ایس او نیوز) جس وقت اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے جعلی ووٹر لسٹ میں جعلی ووٹروں کے اندراج کو لے کر زبردست احتجاج چل رہا ہے اور پورے ملک میں یہ موضوع گرماگیا ہے، ایسے میں کیرالہ کی ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ تھریسورمیں ووٹرلسٹ کے اندرموجود اس کے رہائشی پتے پر اس کی لاعلمی میں 9 جعلی ووٹرس کے نام رجسٹر کیے گئے ہیں۔
پونکونم کے کیپیٹل ولیج اپارٹمنٹ میں رہائش پزیر پرسنّا نامی خاتون نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ تھیریسور سٹی میں واقع اپنے گھر میں ووٹنگ کا حق رکھنے والی وہ تنہا مکین ہے۔ گھر کے دیگر افراد اپنے آبائی گاوں پوچیناپدم میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھنے والوں کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام کے اندراج کی تصدیق کرنے کے لئے پہنچی تو اسے اپنے پتے پر 9 جعلی ووٹروں کا نام درج ہونے کا پتہ چلا ۔
اس نے بتایا کہ :"میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتی۔ میں اس جگہ پرگزشتہ چار سال سے مقیم ہوں ۔ ہماری اجازت کے بغیر ہمارے پتے پر ووٹروں کے نام درج کرنا درست نہیں ہے۔" اس نے بتایا کہ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ کلکٹر کے پاس اس نے شکایت درج کروائی ہے۔
سی پی آئی کا الزام ہے کہ پونکونم کے علاقے میں موجود دیگراپارٹمنٹ کامپلیکسس میں بھی اسی طرح کی بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ دوسرے اضلاع سے اس اسمبلی سیٹ پر ووٹرس کے نام ٹرانسفر کرنے کے لئے یہاں پر موجود خالی فلیٹس کے پتے استعمال کیے گئے ہیں۔ سی پی ایم کے سابق امیدوار وی ایس سنیل کمار نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسی بے ضابطگیوں کی اجازت دے رہا ہے۔ یہاں دوسرے اسمبلی حلقوں کے لوگوں اور مہاجر مزدوروں کے ناموں سے صرف ایک بوتھ میں 280 درخواستیں پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے پوسٹ کارڈ کو ایڈریس پروف کے طورپرقبول کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں نام درج کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
خیال رہے کہ کیرالہ میں تھریسور ہی ایک ایسا لوک سبھا کا حلقہ ہے جہاں سے 2024 کے پارلیمانی الیکشن میں ایل ڈی ایف کے سنیل کمار اور یو ڈی ایف کے مرلی دھرن کو شکست دیتے ہوئے بی جے پی کے سریش گوپی نے جیت درج کی تھی۔
اب جو ایک ہی پتے پر 9 جعلی ووٹرس کے رجسٹریشن کا معاملہ سامنے آیا ہے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستیشن نے اس کی گہری جانچ کا مطالبہ کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کرتے ہوئے صاف ستھرے اور آزادانہ انتخابات کے عمل کی جڑیں کمزور کرنا چاہتی ہے۔
ستیشن نے کانگریسی لیڈر راہل گاندھی کی طرف سے مبینہ الیکشن فراڈ کو اجاگر کیے جانے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو "فاشزم، آمریت اور فرقہ پرستی" کا مقابلہ کرنے کے لئے سامنے آنا چاہیے۔