کوچی 25/فروری (ایس او نیوز): فلم دی کیرالہ اسٹوری 2، گوز بیونڈ (The Kerala Story 2: Goes Beyond) پر کیرالا ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ کیرالا کو منفی انداز میں پیش کیے جانے کا اندیشہ نظر آتا ہے۔
فلم کے ٹیزر اور ٹریلر کو کیرالا کے عوام کی “غلط عکاسی” قرار دیتے ہوئے عدالت نے منگل (24 فروری 2026) کو ہدایت دی کہ بدھ کے روز عدالت کے سامنے فلم کی اسکریننگ کے انتظامات کیے جائیں۔
عدالت نے کہا کہ ریاست میں لوگ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں، مگر فلم کے مکالموں اور مواد سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے منفی واقعات پورے کیرالا میں عام ہوں۔ عدالت نے فلم کی اسکریننگ طلب کرتے ہوئے مرکز سے فوری مؤقف پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سماعت کے دوران کیرالہ ہائی کورٹ کے جسٹس بیچو کورین تھامس نے ریمارکس دیے کہ اگرچہ عدالت عام طور پر فنکارانہ آزادی میں مداخلت نہیں کرتی، تاہم جب کسی فلم کو “حقیقی واقعات سے متاثر” قرار دے کر کیرالا کا نام نمایاں طور پر استعمال کیا جائے تو اس کے سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا مواد جذبات کو بھڑکا سکتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سنسر بورڈ کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔
عدالت نے مرکز سے دوپہر تک ہدایات حاصل کر کے یہ بتانے کو کہا کہ آیا فلم کی فوری اسکریننگ ممکن ہے۔ جج نے واضح کیا کہ سنسر سرٹیفکیٹ فلم سازوں کے حق میں ایک قرینہ ضرور پیدا کرتا ہے، لیکن اگر فلم میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والا مواد پایا گیا تو اس قرینے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ فلم کا عنوان کیرالا کے نام پر ہے، مگر خود فلم ساز اسے ہمہ ہند کہانی قرار دے چکے ہیں، جو گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے مقدمہ گھوس کور پنڈت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ کسی فلم کا عنوان کسی برادری یا طبقے کی توہین کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
ادھر سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن Central Board of Film Certification (سی بی ایف سی) نے فلم کو یو/اے 16+ سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے، تاہم 16 ترامیم اور کٹوتیوں کی شرط عائد کی گئی ہے، جن میں بعض مناظر اور مکالموں میں کمی اور ترمیم کے علاوہ فلم کے آغاز میں یہ وضاحتی نوٹ شامل کرنا بھی شامل ہے کہ فلم “حقیقی واقعات سے متاثر” ہے۔
یاد رہے کہ اس فلم کے پہلے حصے The Kerala Story کو بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ موجودہ معاملہ آئندہ سماعت تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔