کاروار، 10 جولائی (ایس او نیوز): کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (KRIMS) کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور کاروار میڈیکل کالج کے ماتحت افسر ڈاکٹر شیوانند کُڈتَرکر کو جمعرات کی دوپہر کرناٹک لوک ایوکتہ کی ٹیم نے ایک کنٹریکٹر سے مبینہ رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

لوک ایوکتہ حکام کے مطابق، ڈاکٹر کُڈتَرکر نے انکولہ کے رہائشی کنٹریکٹر محسن احمد شیخ سے 3.5 لاکھ روپے کے زیر التواء بل کو منظور کروانے کے بدلے 50 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔ یہ بل اسپتال کے لیے بیڈ اور گدّے فراہم کرنے کے سلسلے میں تھا، جس کا ٹینڈر آٹھ ماہ قبل وِشال فرنیچر کے توسط سے شیخ کو دیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کُڈتَرکر نے بدھ کو ابتدائی طور پر 20 ہزار روپے وصول کیے تھے۔ جمعرات کو جب وہ بقیہ 30 ہزار روپے لے رہے تھے تو مینگلورو سے آئی لوک ایوکتہ کی ٹیم، جس کی قیادت ایس پی کمار چندر اور ڈی وائی ایس پی دھنیا نائک کر رہے تھے، نے اسپتال کے احاطے میں چھاپہ مار کر انہیں رشوت کی رقم کے ساتھ گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق، کنٹریکٹر محسن شیخ گزشتہ کئی ماہ سے ڈاکٹر کے دباؤ میں تھے، جو کمیشن کے لیے مسلسل تقاضہ کر رہے تھے۔ مالی مجبوری کے تحت شیخ نے اپنی بیوی کا سونے کا چین گروی رکھ کر ابتدائی رقم ادا کی تھی۔ بدھ کے روز اس نے لوک ایوکتہ دفتر میں شکایت درج کروائی تھی، جس کے اگلے ہی دن کارروائی عمل میں آئی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 2014 میں بھی ڈاکٹر کُڈتَرکر پر 16 لاکھ روپے کے ایک اسپتال ٹینڈر کے عوض 5.5 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام لگ چکا ہے۔
لوک ایوکتہ حکام نے ڈاکٹر کُڈتَرکر کو حراست میں لے کر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔