ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: ساحلی علاقوں کے بعد اب گھاٹ والے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش؛ بدھ 25 جون کوچار تعلقوں کے اسکولوں میں چھٹی کا اعلان

کاروار: ساحلی علاقوں کے بعد اب گھاٹ والے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش؛ بدھ 25 جون کوچار تعلقوں کے اسکولوں میں چھٹی کا اعلان

Tue, 24 Jun 2025 23:59:29    S O News
کاروار: ساحلی علاقوں کے بعد اب گھاٹ والے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش؛ بدھ 25 جون کوچار تعلقوں کے اسکولوں میں چھٹی کا اعلان

کاروار24 جون (ایس او نیوز): ساحلی علاقوں کے بعد اب گھاٹ کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس کو دیکھتے ہوئے اُترکنڑا ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ چار گھاٹ والے چار تعلقہ جات میں 25 جون، بروز بدھ کو اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ  گھاٹ یعنی ملناڈ کے علاقوں میں گذشتہ دو تین دنوں سے موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (IMD) کی جانب سے جاری کردہ اورینج الرٹ کے پیش نظر، ڈپٹی کمشنر کے لکشمی پریا نے یلاپور، ہلیال، جوئیڈا اور ڈانڈیلی تعلقہ جات میں قائم تمام آنگن واڑی مراکز کے ساتھ پرائمری اور ہائی اسکولوں کے لیے 25 جون کو ایک دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

یہ چاروں تعلقہ جات مغربی گھاٹ کے پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں، جہاں بارش کے دوران تودے کھسکنے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بچوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے احتیاطی طور پر یہ فیصلہ لیا ہے۔

یہ اعلان ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کی دفعہ 34(ایم) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے، اور اس میں متعلقہ تحصیلداروں کی زبانی درخواستوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے 24 سے 27 جون کے درمیان مسلسل شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد فوری اقدامات ضروری سمجھے گئے۔

ڈپٹی کمشنر نے خواتین و اطفال فلاح و بہبود محکمہ کاروار اور محکمہ تعلیمات عامہ سرسی کے نائب ڈائریکٹروں کو اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ چھٹی کے دن کو آنے والے ایام میں تعلیمی نظام الاوقات کے مطابق پورا کیا جائے۔

ضلع اُترکنڑا میں مانسون کی شدت بڑھنے کے بعد اب نہ صرف ساحلی بلکہ گھاٹ کے  علاقوں میں بھی حکام مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔

Click here for report in English


Share: