ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: سی برڈ منصوبے کے تحت زمین گنوانے والے 57 خاندانوں کو 25 سال بعد ادا کیا گیا دس کروڑ روپئے معاوضہ

کاروار: سی برڈ منصوبے کے تحت زمین گنوانے والے 57 خاندانوں کو 25 سال بعد ادا کیا گیا دس کروڑ روپئے معاوضہ

Sun, 22 Jun 2025 15:05:41    S O News
کاروار: سی برڈ منصوبے کے تحت زمین گنوانے والے 57 خاندانوں کو 25 سال بعد ادا کیا گیا دس کروڑ روپئے  معاوضہ

کاروار، 22 جون (ایس او نیوز): سی برڈ نیول بیس منصوبے کے لیے زمینیں حاصل کیے جانے کے 25 سال بعد، متاثرہ 57 خاندانوں کو آخرکار ان کا طویل عرصے سے التواء کا شکار اضافی معاوضہ ادا کر دیا گیا، جس سے ایک تاریخی جدوجہد کو جزوی کامیابی ملی ہے۔ ہفتہ کو کاروار کے ڈپٹی کمشنر  دفتر میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران، بندرگاہ و آبی جہاز رانی کے  وزیر اور اُترکنڑا  کے انچارج وزیر منکل ایس ویدیا نے متاثرین کے بینک کھاتوں میں RTGS کے ذریعے 10.47 کروڑ روپے منتقل کیے۔

متاثرین میں بزرگ افراد، وہیل چیئر پر آنے والے، اور اُن افراد کے ورثاء شامل تھے جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ کئی خاندانوں نے اس موقع پر شدید جذبات کا اظہار کیا، کیونکہ برسوں کی غربت اور انتظار کے بعد انہیں یہ رقم ملی۔

زمین حصول کا پس منظر: سی برڈ منصوبہ 1986 میں شروع ہوا تھا اور 1999 تا 2000 کے درمیان 14 دیہاتوں کی زمینیں حاصل کی گئیں۔ ابتدائی معاوضہ دیا گیا تھا، مگر متعدد خاندانوں نے 1894 کے زمین حصول قانون کی دفعہ 28(A) کے تحت عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اضافی معاوضے کی مانگ کی۔

کل 443 مقدمات دائر کیے گئے تھے، جن میں سے 338 کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ بینگلورو میں ڈیفنس اسٹیٹس آفیسر نے 68.38 کروڑ روپے کی رقم منظور کی، مگر فی الحال صرف 10.47 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ بقیہ 60 کروڑ روپے ابھی منظوری کے منتظر ہیں۔

karwar-sea-bird-compensation

افسران اور وزراء کا بیان:   وزیر منکل ویدیا نے تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال بعد صرف 10 کروڑ روپے جاری ہوئے ہیں، باقی رقم مرکز سے جلد از جلد جاری ہونی چاہیے۔ ہلیال کے ایم ایل اے اور اصلاحاتِ انتظامیہ کمیشن کے صدر آر وی دیشپانڈے نے پروگرام میں  آن لائن شرکت کرتے ہوئے شفافیت اور فوری ادائیگی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا:  انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی رقم کے لئے  30 سال انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

پروگرام میں شریک رکن پارلیمان وشویشور ہیگڈے کاگیری نے بتایا کہ وزارت دفاع نے ایک خصوصی افسر مقرر کیا ہے جس کی بدولت کام میں تیزی آئی۔ انہوں نے خصوصی زمین حصول دفتر کی ڈیجیٹائزیشن پر بھی روشنی ڈالی، جہاں 30 لاکھ میں سے 3 لاکھ دستاویزات کمپیوٹرائز ہو چکی ہیں۔

بحالی اور فلاحی اقدامات: حکام نے متاثرین کے لیے بحالی مراکز (ریہابیلیٹیشن سینٹرز) کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ اسی تقریب کے دوران 17.55 لاکھ روپے کی حفاظتی کِٹس ساحلی محافظین کو فراہم کی گئیں، اور محکمہ سیاحت کی سالانہ رپورٹ 2023-24 بھی جاری کی گئی۔

کاروار ایم ایل اے ستیش سیل نے اس موقع پر نشاندہی کی کہ 443 میں سے 105 درخواستیں مسترد کی گئی ہیں، اور ان خاندانوں کو دوبارہ درخواست دینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

تقریب میں ضلع  کی ڈپٹی کمشنر  محترمہ لکشمِی پریا، ضلع پنچایت چیف ایکزی کوٹیو آفسر ایشور کاندو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر  ساجد مُلا،  پروبیشنری IAS افسر ذُوفیشان حق اور دیگر افسران موجود تھے۔

Click here for report in English


Share: