نئی دہلی، 25/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) جب سے کرناٹک اسمبلی نے سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن کا بل منظور کیا ہے، بی جے پی کے اعلیٰ رہنما مسلسل کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آج، لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بی جے پی اراکین پارلیمنٹ نے اس معاملے پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس کے جواب میں کانگریس بھی جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے وزراء اور اراکین پارلیمنٹ مسلسل گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔ کانگریس نے اپنے آفیشل 'ایکس' ہینڈل پر ترجمان سپریا شرینیت کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ تفصیل سے وضاحت کر رہی ہیں کہ بی جے پی اور اس کے رہنما کس طرح حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں سپریا شرینیت کہتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ’’بی جے پی ہی نہیں، مودی حکومت کے وزراء اور اراکین پارلیمنٹ بھی لگاتار جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ آج کرناٹ کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار جی کو لے کر جھوٹ پھیلانے کی کوشش میں مصروف رہے۔ کرناٹک میں مسلم ریزرویشن کے بارے میں بھی مستقل آپ کو جھوٹ بتایا گیا ہے۔‘‘ اس ریزرویشن کے بارے میں چند حقائق پیش کرتے ہوئے سپریا کہتی ہیں کہ ’’حال ہی میں پیش ہوئے بجٹ میں کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کے لیے سرکاری ٹھیکوں میں ریزرو ٹھیکے کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ لاکھ روپے کر دی۔ کانگریس حکومت نے ہی 2015 میں ایس سی، ایس ٹی کو 50 لاکھ روپے تک کے سرکاری ٹھیکوں میں 24 فیصد ریزرویشن دیا۔ جولائی 2023 میں ایس سی/ایس ٹی ریزرو ٹھیکوں کی حد کو 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا گیا۔ پھر جون 2024 میں سرکاری ٹھیکوں میں او بی سی کو بھی ریزرویشن دیا گیا۔ زمرہ 1 میں پسماندہ طبقہ کو 4 فیصریزرویشن دیا گیا، اور زمرہ 2 اے میں انتہائی پسماندہ طبقہ کو 15 فیصد ریزرویشن ملا۔‘‘
اس کی مزید تفصیل پیش کرتے ہوئے کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’اس وقت سرکاری ٹھیکوں میں ریزرویشن ایس سی/ایس ٹی کو 24 فیصد، او بی سی زمرہ 1 کو 4 فیصد ہے۔ اس میں 95 پسماندہ ذاتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ 15 فیصد ریزرویشن او بی سی زمرہ 2 اے کو مل رہا ہے جس میں 102 پسماندہ ذاتوں کو فائدہ پہنچ رہا۔ 4 فیصد ریزرویشن او بی سی زمرہ 2 بی کے لیے ہے جس میں مسلم پسماندہ کو فائدہ دیا جا رہا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’پسماندہ طبقات کا زمرہ ستمبر 1994 میں طے کیا گیا تھا، جس کے تحت مسلم طبقات کے پسماندوں کو تعلیمی و سماجی اور معاشی سروے کے بعد پسماندوں کے 2 بی زمرے میں ڈالا گیا۔ یہ ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف پسماندگی کی بنیاد پر تھا۔‘‘ اس طرح سپریا شرینیت نے مرکزی وزراء اور برسراقتدار پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی اس جھوٹ سے پردہ اٹھا دیا کہ کرناٹک اسمبلی میں پاس بل مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن سے متعلق ہے۔
کانگریس ترجمان کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ ’’کرناٹک میں تعلیمی و سماجی اور معاشی بنیاد پر تعلیم اور سرکاری ملازمت میں 2 بی زمرہ کے تحت پسماندہ طبقات کے مسلمانوں کے لیے 31 سالوں سے 4 فیصد ریزرویشن نافذ ہے۔ نہ تو ریاست میں پہلے بی جے پی حکومتوں (2006، 2008، 2019) نے، اور نہ ہی گزشتہ 11 سالوں سے اقتدار میں رہی مودی حکومت نے اس ریزرویشن پر سوال اٹھایا۔‘‘ یہ حقائق پیش کرنے کے بعد سپریا شرینیت سوال پوچھتی ہیں کہ ’’کیا بی جے پی کو سرکاری ٹھیکوں میں مل رہے ریزرویشن سے دقت ہے، یا پھر اسے سماجی و معاشی اسباب سے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کے ریزرویشن سے ہی تکلیف ہے؟‘‘ کانگریس نے بی جے پی کے خلاف حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانگریس کے خلاف بے بنیاد جھوٹ پھیلانے کی جگہ ریزرویشن سے متعلق اپنے رخ کو صاف کرے، کیونکہ ان کی نیت میں ہمیشہ سے ریزرویشن معاملے میں کھوٹ رہا ہے۔