ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُترکنڑا میں بھٹکل سمیت 14 آشا کرن وژن مراکز کا افتتاح، قابلِ علاج اندھے پن کے خاتمے کی سمت اہم پیش رفت

اُترکنڑا میں بھٹکل سمیت 14 آشا کرن وژن مراکز کا افتتاح، قابلِ علاج اندھے پن کے خاتمے کی سمت اہم پیش رفت

Fri, 04 Jul 2025 01:52:48    S O News
اُترکنڑا میں بھٹکل سمیت 14 آشا کرن وژن مراکز کا افتتاح، قابلِ علاج اندھے پن کے خاتمے کی سمت اہم پیش رفت

کاروار 3/جولائی (ایس او نیوز): حکومتِ کرناٹک نے قومی انسدادِ اندھے پن و بصارت کی کمزوری کی اسکیم کے تحت ضلع اُترکنڑا میں بھٹکل تعلقہ اسپتال سمیت 14 مقامات پر مستقل آشا کرن وژن مراکز قائم کیے ہیں، جن کا مقصد عوام کو مسلسل، مفت اور قابلِ رسائی آنکھوں کا علاج فراہم کرنا اور ضلع میں اندھے پن کی شرح میں نمایاں کمی لانا ہے۔

اس سے قبل، آنکھوں کی جانچ کے لیے وقتاً فوقتاً پرائمری ہیلتھ سینٹروں (PHCs) میں کیمپ لگائے جاتے تھے، تاہم آشا کرن اسکیم کے تحت اب مستقل بنیادوں پر سرکاری طبی اداروں میں وژن مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کاروار ڈسٹرکٹ اسپتال، تعلقہ اسپتال، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر اور کاروار میڈیکل کالج اسپتال شامل ہیں۔ اس اقدام سے آنکھوں کے علاج کی خدمات ہمہ وقت میسر رہیں گی اور تشخیص و علاج میں تسلسل اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

ضلع انسدادِ اندھے پن اور کوڑھ کے افسر ڈاکٹر شنکر راؤ کے مطابق، یہ مراکز مفت آنکھوں کی جانچ، چشمے، سرجری اور دیگر ضروری آنکھوں کے علاج کی سہولتوں سے لیس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے طبی عملے، خصوصاً آشا کارکنان، گھر گھر جا کر بصارت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کریں گے اور ایسے مشتبہ افراد کو قریبی وژن مرکز میں جانچ کے لیے رجوع کریں گے۔

یہ ریاست گیر مہم کرناٹک کو قابلِ علاج اندھے پن سے پاک ریاست بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے ریفریکٹیو خرابیوں، موتیا، قرنیہ کی بیماریوں اور دیگر آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص اور علاج کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت عوام میں آنکھوں کی باقاعدہ جانچ، وراثتی و غذائی کمی، انفیکشن اور ذیابطیس جیسی غیر متعدی بیماریوں کے اثرات سے متعلق شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر راؤ نے مزید کہا کہ وٹامن اے کی کمی، غذائی قلت، پیدائشی نقائص اور دیگر مسائل کی وجہ سے لاحق ہونے والی بصارت کی خرابیوں کا بروقت علاج ممکن ہے۔ انہوں نے بغیر مشورہ دوا استعمال کرنے سے پرہیز کی ہدایت دی اور ذیابطیس ریٹینوپیتھی اور گلوکوما جیسے خاموش مگر خطرناک امراض کی باقاعدہ جانچ کی تاکید کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سگریٹ نوشی آنکھ کی پتلی اور اعصاب کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

آشا کرن مراکز عوامی آگاہی کے بھی مراکز ہوں گے جہاں بہتر بصارت کے لیے غذائی مشورے، خاص طور پر سبز پتوں والی سبزیاں اور سرخ و پیلے پھلوں کا استعمال، اسکرین ٹائم کی کمی کے لیے 20-20-20 اصول پر عمل جیسے موضوعات پر بیداری پیدا کی جائے گی۔

ڈاکٹر راؤ کے مطابق، ضلع اُترکنڑا میں یہ تمام 14 مراکز اب مکمل طور پر فعال ہیں۔ ان میں بھٹکل، ہوناور، کمٹہ، انکولہ، ہلیال، منڈگود، سداپور، سرسی، سوپا اور یلاپور کے تعلقہ اسپتال شامل ہیں، جب کہ شرالی، ڈانڈیلی اور پالا کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز اور کاروار میڈیکل کالج میں بھی یہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان سہولتوں سے بھرپور استفادہ کریں، جہاں مفت معائنہ، چشمے، سرجری اور دیگر آنکھوں کے امراض کا علاج دستیاب ہے۔

حکام کا ماننا ہے کہ ان مراکز کا مستقل قیام اور فیلڈ ورکرز کی براہ راست رسائی سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں معیاری آنکھوں کی نگہداشت ممکن ہو سکے گی، جو ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

Click here for report in English


Share: