بنگلورو، 31 مئی (ایس او نیوز/ایجنسی):کرناٹک کی کانگریس حکومت نے تمباکو نوشی سے جڑے قوانین کو سخت کرتے ہوئے ریاست میں ’حقہ بار‘ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور سگریٹ و دیگر تمباکو مصنوعات کی فروخت کے لیے کم از کم عمر کی حد کو 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوامی مقامات پر گٹکا تھوکنے یا سگریٹ نوشی کرنے پر اب 1000 روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات ایکٹ (COTPA) 2024 کو اب ریاست میں نافذ کر دیا گیا ہے، جسے پہلے ریاستی اسمبلی و کونسل میں منظور کیا گیا تھا اور پھر صدر جمہوریہ سے منظوری کے بعد اب باضابطہ قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ترمیم 2003 کے مرکزی قانون میں تبدیلی کے ذریعے کی گئی ہے۔
اس نئے قانون کے تحت:
اب 21 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات فروخت کرنا ممنوع ہے۔
کسی بھی تعلیمی ادارے کے 100 میٹر کے دائرے میں تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی اور گٹکا تھوکنے پر 200 روپے کے بجائے اب 1000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ریاست میں کسی بھی ہوٹل، ریستوراں یا نجی مقام پر ’حقہ بار‘ چلانا غیر قانونی ہوگا، اور اس قانون کی خلاف ورزی پر 1 سے 3 سال قید اور 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سخت اقدام کا مقصد نوجوانوں کو تمباکو کی لت سے بچانا، عوامی صحت کا تحفظ کرنا اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ ماہرین صحت اور سماجی تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے تمباکو کے استعمال میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔