سری نگر، 25/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) جموں و کشمیر کے راجوری میں حالیہ دنوں میں ہونے والی پراسرار اموات سے متعلق آج ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیکل ٹیم کی تحقیقات میں ایک اہم پہلو سامنے آیا ہے جو پہلے تک عوامی طور پر معلوم نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق، مہلوکین میں ایک مخصوص عنصر کی شناخت کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر ان اموات کی اصل وجہ ہو سکتی ہے۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے اس معاملے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ بدھال گاؤں والوں کی موت کسی بیماری کی وجہ سے نہیں، بلکہ کیڈمیم زہر کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ہندی روزنامہ ’دینک جاگرن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی وزیر نے کہا کہ لکھنؤ کے ایک تجربہ گاہ میں مہلوکین کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ جانچ کے دوران ان سبھی کے جسم میں کیڈمیم پایا گیا ہے۔ فی الحال یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر ان لوگوں کے جسم میں کیڈمیم پہنچا کس طرح۔
اس سے قبل 23 جنوری کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا تھا کہ لکھنؤ میں مہلوکین کے نمونوں کی جانچ چل رہی ہے۔ شروعاتی جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کسی بھی طرح کا کوئی وائرس، بیکٹیریا یا کوئی انفیکشن گاؤں میں نہیں تھا۔ یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ ہلاکتوں کی وجہ زہر ہو سکتی ہے، اور اگر کسی نے قصداً ایسا کیا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔
بہرحال، عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق کیڈمیم انسانی جسم کے لیے بہت ہی مضر عنصر ہے۔ اس کی وجہ سے گردہ، اسکیلیٹن اور نظام تنفس سے متعلق بیماریاں بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔ اس زہر کی وجہ سے انسانی جسم میں کینسر جیسی مہلک بیماری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیڈمیم کا اثر خاص طور سے بچوں میں جلدی دیکھنے کو ملتا ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کے بدھال گاؤں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے خوف کا ماحول ہے۔ اس کی وجہ اس مدت میں پُراسرار حالات میں 17 لوگوں کی ہوئی موت ہے۔ اچانک ہونے والی ان اموات کی خبر سن کر انتظامیہ حرکت میں آئی اور متاثرہ کنبوں کے رابطے میں آئے تقریباً 200 لوگوں کو کوارنٹین کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے گاؤں کے ایک مقامی آبشار کو بھی سیل کر دیا۔ اس کے پانی کی جانچ کرنے پر اس میں کچھ زہریلے عناصر کی تصدیق ہوئی تھی۔