منکی، 18/ اگست (ایس او نیوز/تعظیم قاضی) بھٹکل کے پڑوس میں واقع ہوناور تعلقہ کے قصبہ منکی میں عوام الناس کو درپیش کئی ایک مسائل کے حل کے لئے جماعت المسلمین منکی کے ایک وفد نے منکی پٹن پنچایت چیف آفسرسے ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے جملہ مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
منکی کے ذمہ داروں اور نوجوانوں نے چیف آفسر کو منکی نوائط محلوں میں راستوں کی خراب صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے اسکی درستگی کامطالبہ کیا۔ وفد نے خصوصا باشا کالونی سیکنڈ کراس اور محی الدین مسجد کے دائیں جانب، سعود کالونی اورعثمان اسٹریٹ کے اندرونی راستوں کا تذکرہ کرتے ہوئےکہا کہ ان راستوں پر چلنا بہت مشکل ہوگیا ہے یہاں تک کہ رکشہ والے بھی یہاں پر اپنی سواری لانے سے گریز کر رہے ہیں جس سے عوام اور ضرورت مند افراد کو آنے جانے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ چیف آفسر سے مطالبہ کیا گیا کہ ان راستوں کی فوری مرمت کی جائے۔
چیف آفسر کو بتایا گیا کہ ماون کٹے سے سوپربازار تک پانی جانے کے لیے جو نالیاں بنائی گئی ہیں وہ ادھوری ہے اس کام کومکمل کیا جائے اوران میں کچرہ اور مٹی بھرجانے کی وجہ سے پانی رہائشی مکانات میں داخل ہو رہا ہے جس سے مکینوں کو دشواری ہو رہی ہے ان کی صفائی ستھرائی کامعقول انتظام کیا جائے اور خصوصا بارش کے دنوں میں اس پر زیادہ توجہ دی جائے۔
وفد نے چیف آفسر کی توجہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف مبذول کراتے ہوئے کتوں سے راہ گیروں کو ہونے والی پریشانیوں سے آگاہ کرایا۔اور مطالبہ کیا کہ کسی بھی طرح کا ناگہانی واقعہ ہونے سے پہلے یا کتوں کا کسی پر حملہ کرنے سے پہلے ضروری کارروائی کی جائے تاکہ عام آدمی کتوں کے حملوں سے محفوظ رہ سکے۔
وفد نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ کئی مہینوں سے کچرا لے جانے والی گاڑیاں بند کی گئی ہیں اور کچرہ پھینکنے کا بھی کوئی معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گھر والوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس لیے اس خدمات کو دوبارہ جاری کیا جائے اور گھروں سے سوکھا یا گیلا کچرا لے جانے کا باقاعدہ انتظام کیا جائے۔
وفد نے کہا کہ پہلے پوسٹ آفس میں ادھار کارڈ بنائے جانے کی سہولت مہیا تھی لیکن کچھ دنوں سے وہ سہولت معطل کر دی گئی ہے لہذا اس کو دوبارہ بحال کیاجائے۔
اس کے علاوہ سعود کالونی میں کافی لوگوں کے مکانات ہیں، لیکن وہاں کے رہنے والوں کو نہ ڈھنگ کے راستےہیں اور نہ پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام ہے، یہی وجہ ہےکہ نشیب سے آنے والا پانی مٹی کو بہا لے جاتا ہے اورعام راہگیروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہذا یہاں پر سڑکیں اور پانی کی نکاسی کے لیے نالیوں کا انتظام کیا جائے۔
چیف آفسر کی توجہ اس بات کی طرف بھی کرائی گئی کہ مین روڈ پر گاڑیاں تیز رفتاری کے ساتھ چلانے کی وجہ سے حادثات ہونے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں، خصوصاً اسکولی بچوں کو تیز رفتار گاڑیوں سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بعض مخصوص جگہوں پر اسپیڈ بریکر لگانے کی نشاندہی کی گئی تھی، چیف آفسر سے مطالبہ کیا گیا کہ نشاند کردہ جگہوں پر اسپیڈ بریکر لگانے کا کام جلد سے جلد انجام دیا جائے تاکہ راہگیروں کو حادثات سے بچایا جا سکے اس کے علاوہ دیگر اہم مسائل کی طرف بھی چیف آفسر کی توجہ دلائی گئی اور جملہ مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کیا گیا۔
مسائل کا جواب دیتے ہوئے چیف آفیسر کیشو چوگلے نے اپنے اختیارات کے مطابق بعض کاموں کو فوراً شروع کرنے کا بھروسہ دلایا اور بعض کاموں کے لئے حکومتی فٹڈ کی حصولیابی کی کو شش کرنے کی یقین دہائی کرائی۔
وفد میں جماعت المسلمین منکی کے صدرجناب کڑپاڑی حبیب اللہ، جنرل سیکرٹری جناب حسن باپو حسن باپا، نائب صدر جناب ساوڑا ابو محمد، ناظم مدرسہ جناب ماشیما محمد عرفان، خازن جناب حاجیکا عبدالرشید، مہتمم مدرسہ مولانا شکیل احمد سکری ندوی، مولانا جمیل احمد قاضی ندوی مولانا نور الصباح عابدہ اور سابق پنچایت ممبر جناب کٹنگری خلیق الزماں اور جناب کٹنگری ذاکر، جناب کڑپاڑی نثار، جناب علی باپو اطہراورجناب حاجیکا زاہد سمیت دیگر ممبران اور بیرونی جماعتوں کے نوجوان بھی شریک رہے۔
