ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / خلیجی خطے میں کشیدگی شدید، ایران کا دبئی میں امریکی بیس پر ڈرون حملہ؛ قطر اور سعودی عرب بھی زد میں

خلیجی خطے میں کشیدگی شدید، ایران کا دبئی میں امریکی بیس پر ڈرون حملہ؛ قطر اور سعودی عرب بھی زد میں

Tue, 03 Mar 2026 13:11:44    S O News

تہران، 3/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)   مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خلیجی خطہ ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب سمیت مختلف مقامات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کے دعووں نے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتوں اور وزارتی بیانات کے مطابق یہ حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہے اور ان کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔

دبئی میں ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے جہاں امریکی فوجی افسران کی موجودگی بتائی جا رہی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں شاہد-136 ڈرون استعمال کیا گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آمد و رفت محدود کر دی گئی۔ تاحال مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اس سے قبل سعودی عرب میں واقع امریکی سفارت خانے کو بھی ڈرون سے نشانہ بنانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ بعض اطلاعات میں عمارت میں آگ لگنے کا ذکر ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق اس وقت سفارت خانہ خالی تھا۔

قطر کے دفتر خارجہ کے مطابق ایران نے ملک کی جانب 92 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون داغے۔ ابتدائی مرحلے میں 83 میزائل اور 12 ڈرون کی نشاندہی کی گئی۔ دو میزائل العدید ایئرپورٹ کے قریب گرے جبکہ ایک ڈرون نے ابتدائی وارننگ ریڈار اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔

قطری حکام کے مطابق ان حملوں میں 16 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بیشتر میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ وزارت کے مطابق تینوں کروز میزائل، 101 میں سے 98 بیلسٹک میزائل اور درجنوں ڈرون ناکارہ بنا دیے گئے، جبکہ دو SU-24 طیاروں کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

قطر نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوحہ نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خط ارسال کرتے ہوئے ایران کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ خط میں کویت، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سعودی عرب اور عمان کے خلاف مبینہ جارحیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ریاض اور الخرج شہروں کے قریب آٹھ ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور خطرے کو وقتی طور پر غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کے احاطے میں آگ لگنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں شعلے دکھائی دیتے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اس واقعے کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دبئی، قطر اور سعودی عرب میں حملوں کی اس لہر نے خلیج میں سلامتی کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ اگرچہ کئی حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن شہریوں کے زخمی ہونے اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

معاملہ اقوامِ متحدہ تک پہنچنے کے بعد یہ بحران محض عسکری تصادم نہیں رہا بلکہ ایک وسیع سفارتی آزمائش میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی ردعمل اور ممکنہ جوابی اقدامات اس کشیدہ صورتحال کی سمت کا تعین کریں گے۔


Share: