ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا مسابقۂ حفظِ قرآن میں بھٹکل کی حافظہ کا شاندارمظاہرہ؛ 167 حافظات میں دوسرا مقام

حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا مسابقۂ حفظِ قرآن میں بھٹکل کی حافظہ کا شاندارمظاہرہ؛ 167 حافظات میں دوسرا مقام

Sun, 30 Nov 2025 01:01:02    S O News
حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا مسابقۂ حفظِ قرآن میں بھٹکل کی حافظہ کا شاندارمظاہرہ؛ 167 حافظات میں دوسرا مقام

بھٹکل 30 نومبر(ایس او نیوز): حیدرآباد میں دارالقرأت الحسنین مغل پورہ (منسلک دارالقرأت الباسطیہ، قدیم ملک پیٹ) کی جانب سے منعقدہ دو روزہ دوسرے آل انڈیا مسابقۂ حفظِ قرآن مجید میں بھٹکل کی طالبہ نورا قاضیا بنت محمد شعیب قاضیا نے شاندار پرفارمینس پیش کرتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔ اس مقابلے میں ملک کی 16 ریاستوں اور 8 بیرونِ ممالک کی مجموعی طور پر 167 خواتین و طالبات نے شرکت کی تھی۔ یہ اطلاع دارالقرأت الباسطیہ کے ایک ذمہ دار قاری مولانا محی الدین سہیل نے دی۔

مولانا کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق پہلا مقام ریاستِ کیرالہ کے کولم کی حسنیٰ فاطمہ بنت نجم الدین نے، دوسرا مقام بھٹکل کی نورا قاضیا نے اور تیسرا مقام حیدرآباد کی اُمّة السعدیہ بنت حسن شریف نے حاصل کیا۔ تینوں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی حافظات کو بالترتیب 50 ہزار، 25 ہزار اور 15 ہزار روپے نقد کے علاوہ گولڈ میڈل، سند اور ٹرافی سے نوازا گیا۔

مسابقے میں متحدہ عرب امارات، لیبیا، مصر، قطر، انڈونیشیا، مالدیپ، کینیا اور چاڈ سمیت 8 ممالک کی حافظات نے بھی حصہ لیا۔ مقابلہ چار مرحلوں پر مشتمل تھا۔ آن لائن اسکریننگ کے بعد 60 حافظات کو ایلیمنیشن راؤنڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔

سیمی فائنل اور فائنل راؤنڈ 22 اور 23 نومبر کو حیدرآباد کے ایلن بینکویٹ ہال میں آف لائن منعقد ہوئے۔
سیمی فائنل مرحلے میں 22 حافظات پہنچی تھیں، جن میں سے سات نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔

فائنل راؤنڈ تک پہنچنے والی دیگر چار حافظات کو پانچ ہزار روپے نقد اور گولڈ میڈل بطورِ ترغیب دیا گیا، جبکہ سیمی فائنل میں رہ جانے والی طالبات کو ایک ہزار روپے نقد، سلور میڈل اور سند سے نوازا گیا۔

دارالقرأت الباسطیہ کے بانی و صدر، استاذ القراء حضرت مولانا قاری محمد علی خان صاحب دامت برکاتہم نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے آخر میں حافظات کو قیمتی نصائح سے نوازا، جبکہ ان ہی کی دعا پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔

hifz-award-noora-kazia

دوسرا مقام حاصل کرنے والی نورا قاضیا کے والد جناب محمد شعیب قاضیا نے اپنی دختر کی نمایاں کامیابی پر بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی دختر نورا نے عصری اسکول میں تیسری جماعت کے دوران بھٹکل جامعات الصالحات (جالی) سے محض دو سال میں حفظِ قرآن مکمل کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے انجمن آزاد پرائمری اسکول میں تعلیم جاری رکھتے ہوئے انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں انجینئرنگ مکمل کی۔

ایس ایس ایل سی میں ٹاپ مارکس کے ساتھ کامیابی اور سکینڈ پی یو سی میں شاندار کارکردگی پر انہیں رابطہ گولڈ میڈل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد ازاں انجینئرنگ میں بھی نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے پر انہیں اسی سال ایک اور رابطہ گولڈ میڈل ملا۔

جناب شعیب قاضیا نے بتایا کہ حیدرآباد میں منعقدہ اس مسابقے میں ان کی دو دیگر بیٹیوں نے بھی حصہ لیا تھا، جن میں سے مریم عطفہ نے آٹھواں مقام اور نِدیٰ قاضیا نے نواں مقام حاصل کیا۔ ان دونوں نے بھی پی یو سی دوم کے بعد جامعات الصالحات سے حفظِ قرآن مکمل کیا تھا۔

آل انڈیا سطح پر بھٹکل کی حافظات کی اس تاریخی کامیابی پر جامعات الصالحات بھٹکل کے ناظم مولانا الیاس جاکٹی ندوی، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم مولانا مقبول کوبٹے ندوی، انجمن حامئی مسلمین کے صدر جناب محمد یونس قاضیا، جنرل سکریٹری جناب اسحاق شاہ بندری، مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر جناب عنایت اللہ شاہ بندری، جنرل سکریٹری مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی اور بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے سکریٹری جنرل جناب عتیق الرحمن منیری سمیت کئی دیگر ذمہ داران نے بھی نورا قاضیا، دیگر تمام حافظات اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی ہے اور مستقبل میں مزید کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس منعقدہ پہلے آل انڈیا مسابقے میں بھٹکل ہی کی طالبہ عائشہ فدا بنت حافظ حشمت اللہ رکن الدین نے اول مقام حاصل کیا تھا۔

Click here for report in English


Share: