بنگلورو ، 3/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک کے وزیر صحت و خاندانی بہبود، اقلیتی بہبود،اوقاف و حج یو ٹی قادر نے کہا ہے کہ ریاست میں اسپتالوں کی جانب سے مہنگی ادویات اور طبی استعمال کی اشیا کی خریداری لاگت، زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت اور مریضوں سے وصول کی جانے والی رقم کے درمیان پائے جانے والے نمایاں فرق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعض معاملات میں ایم آر پی خریداری لاگت سے 52 گنا سے بھی زیادہ پائی گئی ہے۔ ریاست کے محکمۂ غذا تحفظ و ادویات انتظامیہ کی حالیہ جانچ کے دوران 253 ادویات میں انتہائی غیر معمولی قیمتوں کے فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مزید تصدیقی کارروائی کے دوران 768 سے زائد طبی استعمال کی اشیا اور 189 مہنگی ادویات کا جائزہ لیا گیا، جن کے نتائج مناسب کارروائی کے لیے مرکزی حکومت کے علم میں لائے جائیں گے۔ یو ٹی قادر نے کہا کہ کرناٹک حکومت کا مقصد اسپتالوں میں ادویات کی خریداری، ایم آر پی اور مریضوں کی بلنگ کے عمل میں شفافیت پیدا کرنا اور مریضوں پر غیر ضروری مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے مرکزی وزیر صحت کو خط لکھ کر فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ کرناٹک حکومت نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ مریضوں کے بل میں ادویات کی خریداری لاگت اور ایم آر پی دونوں درج کرنا لازمی قرار دیا جائے، مزید ادویات کو ڈرگس پرائس کنٹرول آرڈر کے دائرے میں لایا جائے اور ضروری مہنگی ادویات و طبی استعمال کی اشیا پر تجارتی منافع کی شرح کو منظم کیا جائے۔
ریاست نے قیمتوں کے معاملے کا جامع قومی سطح پر جائزہ لینے کے لیے بین وزارتی ماہرین کا گروپ تشکیل دینے، قومی سطح پر اعداد و شمار کا مطالعہ کرانے، ضرورت کے مطابق ڈرگس پرائس کنٹرول آرڈر 2013 میں ترمیم یا تکمیل کرنے، ضروری ادویات کی قومی فہرست میں توسیع اور ادویات کی خریداری لاگت میں پسِ پردہ رعایتوں و دیگر مراعات کو شامل کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ مضبوط آڈٹ، نگرانی اور نفاذ کا نظام قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
محکمۂ غذا تحفظ و ادویات انتظامیہ کے افسران نے 25 اور 26 ستمبر کو بنگلورو سمیت ریاست کے مختلف اضلاع میں تھوک ادویات کے مراکز، اسپتالوں اور دیگر اداروں میں خصوصی تصدیقی کارروائی بھی کی۔ محکمہ کے مطابق آئندہ مرحلے میں اینٹی ریٹرو وائرل ادویات، جدید اور اہم اینٹی بایوٹکس، طبی آلات اور مریضوں پر زیادہ مالی بوجھ ڈالنے والی اسپتال کی استعمال شدہ اشیا کی بھی جانچ کی جائے گی۔
یو ٹی قادر نے کہا کہ زندگی بچانے والی طبی سہولتیں مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے غیر ضروری مالی بوجھ کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں اور کرناٹک حکومت مریضوں کے مفادات کے تحفظ، مناسب قیمتوں اور صحت کے شعبے میں جواب دہی و شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔